جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے پی آئی اے اور پاکستان سٹیل ملز کے مسئلے کا انوکھامستقل حل ڈھونڈ نکالا،حیرت انگیزفیصلہ

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے قومی ایئر لائن( پی آئی اے) اور دیگر اداروں کی نجکاری کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔پی آئی اے کے ساتھ بجلی بنانے والی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا کام شروع کیا جارہا ہے۔پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ نے پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو مختلف مد میں ادائیگیوں اور دیگر بقایا جات کیلیے 141.4 ارب روپے کے ایک پلان (Liabilities Settlement Plan) کی بھی منظوری دے دی ہے

جبکہ پاکستان اسٹیل ملز کی زمین کے حوالے سے نیشنل بینک آف پاکستان اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے لیے بھی اقدامات زیر غور ہیں۔ مری پٹرولیم لمیٹڈمیں حکومتی شیئرز کے حوالے سے مشیران کی تقرری کے لیے بھی نئے سرے سے کام کی منظوری دی گئی ہے۔اگر کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے ان فیصلوں کی توثیق کردی تو 2015 کے وسط میں رک جانے والے نجکاری پروگرام کو نئی زندگی مل جائے گی، یہ پروگرام اس وقت وزیر اعظم نوازشریف نے سیاسی اور یونین رہنماں کے دبا کی وجہ سے روک دیا تھا۔پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کا اجلاس وفاقی وزیر دانیال عزیز کی سربراہی میں ہوا جس میں حکومت کی باقی مدت کے دوران نجکاری کے مرحلے کی رفتار تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کے فیصلوں کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی گائیڈلائنز ملی ہوئی ہیں۔ اگر ان فیصلوں کو کابینہ کمیٹی نے بھی منظور کرلیاتو اس سے حکومت کو عالمی مالیاتی اداروں خاص طور پر آئی ایم ایف سے معاشی و اقتصادی مذاکرات میں آسانی ہوگی۔ پی آئی اے اور پاور سیکٹر کی نجکاری آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے 6.2 بلین ڈالر کے بیل آٹ پیکیج کا نامکمل ایجنڈا ہے۔پاور سیکٹر کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لانے کا منصوبہ منسوخ کردیا جائے۔

تمام پاور سیکٹر کمپنیوں اور اداروں کی نجکاری اس طرح کی جائے گی کہ ان کی انتظامیہ نجی شعبے کے حوالے کردی جائے گی۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ نجکاری کے پہلے مرحلے میں ناردرن پاور جنریشن کمپنی لمیٹیڈ (NPGCL)، فیصل آباد الیکٹریسٹی سپلائی کمپنی اور اسلام آباد الیکٹریسٹی سپلائی کمپنی کو نجی شعبے کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔ اکتوبر 2013 میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے پاور سیکٹر کو نجی شعبے کے حوالے کرنے اور تکنیکی معاملات کے تعین کے لیے مشیران کی تقرری کا فیصلہ کیا تھا لیکن نومبر 2015 میں وزیر اعظم نے نجکاری کے مراحل کو روک دیا تھا۔

وفاقی وزیر دانیال عزیز نے کہا کہ پرائیویٹائزیشن بورڈ نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ نجکاری کا عمل دوبارہ شروع کیا جانا چاہیے۔ پی آئی اے کے حوالے نجکاری بورڈ کی تجویز ہے کہ اس کے زیادہ شیئرز نجی شعبے کے حوالے کیے جائیں اور اس حوالے سے رکاوٹ بننے والی آئینی شقوں کو ختم کیا جائے۔وفاقی وزیر نجکاری کا کہنا تھا کہ پرائیویٹائزیشن بورڈ نے پاکستان اسٹیل ملز کے بقایاجات اور ادائیگیوں کے معاملات کو بھی حل کرنے کیلیے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رواں سال جنوری میں پرائیویٹائزیشن بورڈ نے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان اسٹیل ملز کو 30 سال کی لیز پر دے دیا جائے لیکن اس سے قبل تمام بقایاجات اور ادائیگیوں کے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کو معاشی معاملات طے کرنیا ور تمام بقایاجات کی ادائیگی کیلیے 47.8بلین روپے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…