جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کریم کے ڈرائیور پر فائرنگ کے بعد ایک اور لرزہ خیزواقعہ گاڑی کے اندر مسافر قتل،تفتیش کے دوران سنسنی خیز انکشافات

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)پولیس نے کراچی کے علاقے کورنگی میں دو روز قبل سفری سہولت فراہم کرنے والی کمپنی کے ڈرائیور کے مبینہ قتل کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) خالد عباسی نے بتایا کہ ڈرائیور سید عبداللہ گیلانی بدھ کو اپنی گاڑی میں مردہ پایا گیا تھا اور اسے سر میں گولی ماری گئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ تفتیش کاروں نے جائے وقوع سے 30 بور پستول کی ایک گولی کا خول برآمد کیا۔

ایس ایچ او کے مطابق پولیس نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں مزاحمت پر قتل کے امکانات کو رد کردیاکیونکہ حملہ آور عبداللہ کا موبائل فون، نقدی اور دیگر اشیا لے کر نہیں گئے۔خالد عباسی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے، کیونکہ مقتول کا پنجاب میں رہائش پذیر اس کے رشتہ داروں سے زمین کا تنازع چل رہا تھا۔انہوںنے کہاکہ عبداللہ کے جیب سے ملنے والے شناختی کارڈ کے مطابق اس کا تعلق بہاولپور سے تھا۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ کسی نے ڈرائیور کو فون کرکے جائے وقوع پر ملنے کیلئے بلایا تھااور جب عبداللہ وہاں پہنچا تو اسے گاڑی میں ہی گولی مار دی گئی۔ایس ایچ او نے کہا کہ مقتول سفری سہولت فراہم کرنے والے ایک کمپنی کیلئے کام کرتا تھالیکن قتل کے وقت اس کی گاڑی آف لائن تھی۔واقعہ کے بعد کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ قتل کی تحقیقات میں انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہے۔واضح رہے کہ جون میں پیش آنے والے اسی طرح کے ایک واقعہ میں ’کریم‘ کے ڈرائیور کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ڈکیتی میں مزاحمت کے دوران فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…