جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ہندوستان کی ایسی حرکت جس کی وجہ سے اب لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہر رہنے کے قابل نہیں رہیں گے،صورتحال انتہائی تشویشناک

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(آن لائن) لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں سموگ نے زندگی اجیرن کر دی، آنکھوں میں جلن، بیماریاں پھیلنے لگیں، طبی ماہرین نے عوام کو غیر ضروری گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کر دی۔مقررہ معیار کے مطابق فضا میں آلودگی کی شرح 80 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے لیکن لاہور کے بعض علاقوں میں یہ 200 سے بھی تجاوز کرچکی ہے اور گذشتہ سال کی طرح ایک مرتبہ پھر

فیکٹریوں، گاڑیوں اور دھان کے کھیتوں میں اِس کی باقیات کو جلائے جانے سے اْٹھنے والے دھویں نے پہلے سے فضا میں موجود اِس آلودگی کے ساتھ مل کر سموگ پیدا کرنا شروع کردی ہے جس کی کثافت شہر کی فضاؤں میں دکھائی دینے لگی ہے جو آنے والے دنوں میں مزید گہری ہوتی جائے گی۔اِس صورت حال پر لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست پر سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے بھی برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔ اِس پر سیکرٹری ماحولیات کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ یہ صورت حال بھارتی ریاست ہریانہ میں دھان کی فصل کی باقیات کو آگ لگائے جانے سے زیادہ سنگین ہوئی ہے جس کا دھواں لاہور کی آلودگی کے ساتھ مل غضب ڈھا رہا ہے تاہم اب صورت حال میں بہتری آرہی ہے۔ دوسری طرف سموگ کی صورت فضا میں موجود زہریلے کیمیکلز نے گلے اور آنکھوں کے امراض کی صورت میں شہریوں پر بھی اپنے اثرات مرتب کرنا شروع کر دئیے ہیں۔اگرچہ اِس صورت حال کے پیدا ہونے کی بڑی وجہ تو بارشوں کا نہ ہونا ہے لیکن محکمہ ماحولیات کو بھی اِس سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم حکام کا دعویٰ ہے کہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے نہ صرف 6 جدید ترین ائیر مانیٹرنگ نظام نصب کیے گئے ہیں بلکہ دیگر اقدامات بھی اْٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ حکومت کیساتھ اِس صورت حال سے نمٹنے کے لیے شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…