منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

’’زرداری یاد رکھیں کہ وہ بھٹو نہیں‘‘ حسین حقانی کو کہاں چھپا کر رکھا گیا؟ سینئر سیاستدان کے اہم انکشافات

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات ومرکزی ترجمان سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ زرداری کو ذہن نشین کر لینا چاھیے کہ وہ بھٹو نہیں زرداری ہیں،کب تک بھٹو اور بے نظیر کا نام استعمال کر کے سیاست کرتے رہیں گے ، آج زرداری حسین حقانی سے بھی لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں حالانکہ انہوں نے حسین حقانی کو چھپا کر ایوان صدر میں رکھا تھا، اب انہیں اس طرح کے بیانات زیب نہیں دیتے، زرداری

کہہ رہے ہیں کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ اسٹیبلشمنٹ نے چھاپنے سے روکا ،اس وقت تو بطور صدر یہ اسٹیبلشمنٹ کے انچارج تھے اور آرمی چیف کی تین سالہ ایکسٹینشن کرتے تھے ، اب کس کا گلہ کرتے ہیں ، ایبٹ آباد واقعہ کے فورا بعد امریکی اخبار میں زرداری کا مبارکبادی مضمون شائع ہوا ، ان کے وزیراعظم گیلانی نے ایبٹ آباد واقعہ کو فتح مبین قرار دیا ،اب عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش نہ کریں، مان جائیں کہ حسین حقانی ان کا آدمی ہے۔ لندن سے آئی این پی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے مشاہد اللہ خان نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری چھوٹی اور بے سرویا باتیں کر کے آئندہ الیکشن سے قبل پیپلزپارٹی کا تباہ حال امیج بحال کرنا چاہتے ہیں ، لیکن پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ زرداری نہ صرف کرپٹ ہیں بلکہ اپنے کرپٹ دوستوں کا تحفظ بھی کرتے ہیں جس کی مثال ڈاکٹر عاصم اور ماڈل ایان علی ہیں ، ڈاکٹر عاصم کرپشن کیس میں اندر ہوا تو زردای نے اسے پی پی پی کراچی ڈویژن کا صدر بنا دیا ، ایان علی کو ڈالروں سمیت ایئرپورٹ چھوڑنے زرداری کا پی آر اورحمان ملک کا بھائی چھوڑنے آیا تھا کیا زرداری ان سے بھی اظہار لاتعلقی کریں گے ۔ آصف علی زرداری لایعنی باتیں کر کے کس کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا اصل مسئلہ آئندہ عام انتخابات میں ان کی پارٹی کی پوزیشن خراب ہے ، کراچی اور سندھ میں

بھی ان کی حکومت کی بری کارکردگی کی وجہ سے عوام ان سے شدید حائف ہیں ، اب وہ ایسی باتیں کر کے جن کا کوئی سر پیر نہیں اپنی پارٹی میں جان ڈالنا چاہتے ہیں لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ پاکستان اور سندھ کے عوام زرداری کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ، زرداری کی خام خیالی ہے کہ وہ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کر سکتے ہیں ، عوام کا حافظہ اتنا کمزور نہیں کہ وہ کل کی بات بھول جائیں جب 2013کے عام انتخابات میں

زرداری اور ان کی حکومت کی کرپشن کی وجہ سے ان کے ٹکٹ یافتہ امیدوار بھی اپنی انتخابی مہم کے پوسٹروں اور بینروں پر زرداری کا نام اور تصویر چھاپنے سے گریز کرتے تھے ۔ وہ زرداری آج ہمیں یہ کہہ رہا ہے کہ انہوں نے انتخابی نتائج تسلیم کر کے مہربانی کی ۔ زرداری کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وہ بھٹو نہیں زرداری ہے اور اب کب تک بھٹو اور بے نظیر کا نام استعمال کر کے سیاست کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا

کہ آج زرداری حسین حقانی سے بھی لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں یہ وہی آصف زرداری ہیں جنہوں نے حسین حقانی کو چھپا کر ایوان صدر میں رکھا تھا اب انہیں اس طرح کے بیانات زیب نہیں دیتے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدور مشرف اور زرداری نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان کی معیشت اور سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ، ان دونوں کے گند کو ہمارے قائد نوازشریف نے آکر صاف کیا اور ملک کو نئے سرے سے ترقی کی

راہ پر گامزن کیا ۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں زرداری حکومت نے کرپشن کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں ، کراچی کو کچرے سے بھر دیا سندھ اور کراچی میں تعمیر وترقی کا نام ونشان نہیں ۔انہوں نے سوائے کرپشن کے سندھ کو کچھ نہیں دیا ۔انہوں نے کہا کہ زرداری کہتے ہیں کہ انہیں بدنام کرنے کے لئے ایان علی سے جوڑا جا رہا ہے بھلا انہیں بدنام کرنے کی کسی کو کیا ضرورت ہے ، اس معاملے میں خاموش ہی رہیں تو اچھا ہے ۔انہوں نے

کہا کہ اب زرداری کہہ رہے ہیں کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ اسٹیبلشمنٹ نے چھاپنے سے روکا اس وقت تو بطور صدر یہ اسٹیبلشمنٹ کے انچارج تھے اور آرمی چیف کی تین سالہ ایکٹینشن کرتے تھے ، اب کس کا گلہ کرتے ہیں ، ایبٹ آباد واقعہ ان کے دور میں ہوا جس کے فورا بعد امریکی اخبار میں زرداری کا مبارکبادی مضمون شائع ہوا جبکہ ان کے وزیراعظم گیلانی نے ایبٹ آباد واقعہ کو فتح مبین قرار دیا ۔زرداری اب عوام کی

آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش نہ کریں مان جائیں کہ حسین حقانی ان کا آدمی ہے ۔



کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…