پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اہم سیاسی شخصیت کو ویزے سے انکارکیوں کیا؟پاکستان کا امریکی سفارتخانے کے خلاف بڑا اقدام،مشاورت شروع

datetime 12  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے ویزے سے انکار پر پارلیمنٹ میں امریکی سفارتخانے کے خلاف ’’استحقاق‘‘ کا سوال اٹھ سکتا ہے‘ دعوت نامہ ہونے کے باوجود امریکہ کی طرف سے ویزا نہ دینے کا اقوام متحدہ کو بھی نوٹس لینا چاہئے کیونکہ یہ عالمی ادارے کی بھی توہین ہے اور آئندہ اس کے بین الپارلیمانی تعلقات سے متعلق دعوت نامے کی حیثیت مجروح ہونے کا خدشہ ہے۔

اس حوالے سے مختلف جماعتوں نے پارلیمانی و سیاسی امور کے ماہرین سے مشاورت شروع کردی ۔ ان جماعتوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ امریکی سفارتخانے نے ڈپٹی چیئرمین کو ویزا نہ دے کر پورے ایوان کا استحقاق مجروح کیا ہے کیونکہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی قیادت میں وفد اقوام متحدہ کی دعوت پر نیویارک جانا چاہتا تھا جہاں 13اور 14 فروری کو بین الپارلیمانی مقالمہ ہوگا اور اس میں دنیا بھر سے وفود شریک ہونگے۔ امریکی سفارتخانے کی رکاوٹ کے باعث بین الپارلیمانی تعلقات کو فروغ دینے کے بارے میں پاکستان کا وفد اقوام متحدہ کے اس اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے گا۔ پارلیمانی جماعتیں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر اور دیگر متعلقہ سیکشن کے اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے خلاف استحقاق مجروح کرنے کا سوال اٹھانے کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اس حوالے سے مشاورت مکمل ہونے پر پاکستان کی مختلف پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے سینٹ میں امریکی سفارتخانے کے خلاف مشترکہ تحریک استحقاق لائے جانے کا قوی امکان ہے۔ قواعد و ضوابط بھی اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اگر اندرون ملک کسی رکن پارلیمنٹ کے ساتھ کوئی بھی شخصیت یا ادارہ کسی نامناسب طرز عمل کا مظاہرہ یا اپنے اختیارات کا ناجائز یا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کے خلاف استحقاق کا سوال اٹھایا جاسکتا ہے۔ پارلیمانی امور کے ماہرین یہ بھی قرار دے رہے ہیں کہ امریکی سفارتخانے نے درحقیقت اقوام متحدہ کی بھی توہین کی ہے کیونکہ یہ وفد اقوام متحدہ کی دعوت پر امریکہ جارہا تھا۔ اس طرح خود اقوام متحدہ کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…