جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

سائبرکرائم ایکٹ بارے اہم اجلاس ،حساس اداروں کے نمائندوں کی شرکت ،سوشل میڈیاکے صارفین یہ خبرضرورپڑھ لیں 

datetime 8  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی) سائبر کرائم ایکٹ 2016 سے متعلقہ رولز اور ایس او پی کی تشکیل کیلئے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر قائم کردہ بین الوزارتی کمیٹی کا پہلا اجلاس وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف زاھد حامد کی زیر صدارت آج مورخہ 08-09-2016 بروز جمعرات وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ وزیر مملکت برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام مسز انوشہ رحمٰن ، وزیراعظم کے معاون خصوصی خواجہ ظہیر احمد ، وفاقی سیکریٹری آئی ٹی، سپیشل سیکریٹری داخلہ، اے ڈی جی ایف آئی اے ممبران ٹیلی کام و لیگل، وزارت قانون و انصاف کے سینئر افسران، پی ٹی اے، نیکٹا ، آئی بی، آئی ایس آئی کے نمائندگان نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ کمیٹی نے دوران اجلاس بین الوزارتی کمیٹی کے ٹی او آرز کے تحت ایکٹ برائے انسداد الیکٹرانک کرائم 2016 کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے آئی ٹی مسز انوشہ رحمٰن نے کہا کہ گذشتہ ادوار میں الیکٹرانک کرائم کے متعلق مناسب قوانین کی عدم موجودگی کے باعث ان جرائم سے متاثرہ اشخاص جن تکالیف سے گزرے ہیں ہمیں ان کا بخوبی اندازہ ہے۔ لیکن اس نئے قانون ” انسداد سائبر کرائم ایکٹ “2016 کے بعد ہمیں یقین ہے کہ اب ان جرائم کا شکار ہونے والے افراد کو انصاف کے حصول میں مدد ملے گی اور انکی تکالیف کا موثر ازالا ہو سکے گا۔ دوران اجلاس اس تجویز پر بھی غور کیا گیا کہ سائبر کرائم کے انسداد کے ضمن میں ایف آئی اے کی استعداد کار، اور صلاحیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ” انسداد سائبر کرائم ایکٹ2016 کی دفعہ 29 کی رو سے” ایف آئی اے کو بطور designated agency نامزد کیا جا سکتا ھے۔ مزید براں اس ایکٹ کے تحت سپیشل کورٹس کی نامزدگی، اور سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے قیام سے متعلقہ امور پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…