اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کراچی بد امنی کیس کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد چاہتے ہیں لیکن اداروں نے ذمہ داری ادا نہیں کی اس لئے ہمیں معاملے کو دیکھنا پڑا۔جمعرات کے روز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں بینچ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران حکومت سندھ نے امن و امان کے قیام کے لئے کئے گئے اقدامات سے متعلق 5 سالہ کارکردگی کی رپورٹ اور سی سی ٹی وی کیمروں کے کیس میں نظرثانی کی درخواست جمع کرائی۔امن و امان سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور رینجرز نے ستمبر 2013 سے اب تک 17 ہزار سے زائد آپریشنز کئے، جن میں 80 ہزار ملزمان کو گرفتار کیا گیا، گرفتار ملزمان میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل کے 15 سو سے زائد ملزمان شامل ہیں جبکہ غیر قانونی اسلحہ کے جرم میں1500 سے زائد اور دھماکہ خیز مواد رکھنے پر 450 ملزمان گرفتار کئے گئے۔ پولیس کوسیاسی عناصرسے پاک کرنے کے لئے موثراقدمات کئے گئے، خلاف ضابطہ ترقی پانے والوں اور ڈیپوٹیشن پر آئے افسران کو واپس بھیجا گیا، سنگین نوعیت کے105کیس فوجی عدالتوں کو بھیجے جاچکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ میں 10 لاکھ سے زائد افغان باشندے موجود ہیں جن پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔سماعت کے دوران جسٹس امیر ہانی مسلم نے شہر میں سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق استفسار کیا تو چیف سیکرٹری سندھ نے بتایا کہ نئے کیمروں کے لیے 10ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، 10ہزار نئے کیمروں کے ٹینڈڑز پر وقت لگے گا، اس وقت تک8ہزارپرانے کیمروں کی مرمت پررقم خرچ کرنیکی اجازت دی جائے۔
چیف سیکرٹری سندھ کے موقف پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کراچی بد امنی کیس کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد چاہتے ہیں،اداروں نے ذمہ داری ادا نہیں کی،اس لیے ہمیں معاملے کو دیکھنا پڑا، مسئلہ رقم مختص کرنے کا نہیں بلکہ رقم صحیح جگہ خرچ بھی ہونی چاہیے، نئے ٹھیکوں میں غیر شفافیت برداشت نہیں کریں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک کے لیے ملتوی کردی۔بینچ نے سانحہ کوئٹہ پر افسوس اور برہمی کا اظہار کیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہسپتال جیسے ادارے آسان اہداف ہیں، صرف کاغذوں پر سکیورٹی اقدامات کئے جاتے ہیں، مزید سانحے کا انتظار نہ کریں فوری اقدامات کریں، اگر موثر اقدامات نہ ہوئے تو ایسے واقعات ہوتے رہیں گے، ہسپتالوں میں تعینات سکیورٹی گارڈز کو تربیت فراہم کی جائے، سکیورٹی گارڈز کی سکریننگ بھی ضروری ہے، کوئی بعید نہیں کہ ان کے روپ میں طالبان اور را کے ایجنٹس ہوں۔یہ وہی لوگ ہیں جو جعلی شناختی کارڈز بنوا کر بھرتی ہوتے ہیں۔ تاہم پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ سکیورٹی گارڈز کی بھرتی پر نظر رکھیں ، ان معاملات پر کسی قسم کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہسپتالوں کے سکیورٹی گارڈز کی کوئی اسکریننگ نہیں ہوتی۔ آئی جی سندھ کا کہنا تھا ہسپتالوں میں سکیورٹی گارڈز کی ٹریننگ کا معاملہ دیکھ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کر دی۔
اداروں میں ان لوگوں کی آڑمیں’’راء‘‘ اور ’’طالبان‘‘کے ایجنٹ بھرتی ہو رہے ہیں‘ چیف جسٹس
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
فورنگ میں ایک رات
-
تیل کی قیمتیں مزیدکم ہوں گی،وزیر مملکت نے خوشخبری سنادی
-
فیول سبسڈی ختم، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
مڈل کلاس طبقے کے لیے اب امپورٹڈ گاڑی خریدنا آسان؟ بڑی خوشخبری آگئی
-
پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو خبردار کردیا
-
ملازمین کیلیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبز؛ کتنی تنخواہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی؟
-
خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
-
یکم جولائی کے بعد پاسپورٹ دفاتر جانے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری
-
3 روزہ تعطیلات کا اعلان
-
سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑی کمی
-
شہباز شریف نےصدر زرداری کو چھتری دینے سے انکار کر دیا، نور خان ائیر بیس پر دلچسپ صورتحال
-
جون میں سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی



















































