جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے نئے صوبے کا مطالبہ کردیا

datetime 27  اگست‬‮  2015 |

کوئٹہ (نیوزڈیسک) نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہاہے کہ مذاکرات میرے والد نے بھی کئے تھے اس کا کیا انجام ہوا اختیارات کس کے پاس تھے برامداغ بگٹی کس سے مذاکرات کرے گا اگر وہ پاکستان آتا ہے توخوشی کی بات ہے اقوام متحدہ کی نگرانی میں جیکب آباد ، کشمور ، جعفر آباد ، ڈیرہ غازی خان او ردیگر اضلاع پر علیحدہ بلوچوں کا صوبہ بنایاجائے پشتون افغانستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا کئی رہنا چاہتے ہیں ان کی مرضی انہوںنے یہ بات جمعرات کو بگٹی ہاوس فاطمہ جناح روڈ پر بلوچستان کے سابق گورنر سابق وزیر اعلیٰ ، سابقہ وفاقی وزیر مملکت نواب اکبرخان بگٹی کی نویں برسی کے حوالے سے ہونے والی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر نوابزادہ شازین بگٹی بھی موجو دتھے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہاکہ برامداغ بگٹی کا بیان میں نے ٹی وی پر دیکھا ہے اوراخبارات میں پڑھا ہے 10، 15،20افراد کو بلوچوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیںمیرے والد نواب اکبر خان بگٹی سے مذاکرات کےلئے ڈیرہ بگٹی مشاہد حسین اور چوہدری شجاعت آئے تھے ہر د س منٹ کے بعد وہ فون پر اپنے آقاو ¿ں وسے صلاح ومشورہ کر تے تھے کیونکہ ان کے پاس کوئی اختیارات نہیں تھے میرے والد سے جو مذاکرات کئے گئے تھے اس کا کیا حشر ہوا یہ سب کو معلوم ہے ۔انہوںنے کہاکہ پشتون کئی کہہ چکے ہیں کہ وہ بلوچوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ہیںاپنا صوبہ اپنا شناخت چاہتے ہیں ان کو حق ہے جہاں چاہئے جا کر رہے بلوچوں کے اپنی ایک شناخت ہیںاقوا متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کرایا جائے کہ بلوچ کہا رہنا چاہتے ہیںبلوچوں کےلئے جعفر آباد جیکب آباد، کشمول ،ڈیرہ غازی خان پر مشتمل صوبہ بلوچستان بنایا جائے ۔انہوںنے کہاکہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ برامداغ بگٹی کس سے مذاکرات کرے گا انہوںنے کہاکہ فیصلہ وہی ہوگا بلوچ اکثریت چاہئے گی ہم چاہتے ہیں اقوام متحدہ کی نگرانی میںریفرنڈم کرائے جائے تاکہ بلوچوں کا اپنا ایک الگ صوبہ ہو اپنی شناخت ہوپشتون پہلے ہی اپنا صوبہ بنانے کے حق میں ہے وہ افغانستان جا کر رہتے ہیں یا اپنا الگ صوبہ بنا تے ہیں یہ ان کا مسئلہ ہے ہمار امسئلہ نہیںہے نوازادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہاکہ خان قلات نے پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ فوج سے مذکرات کرے گا اور اس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کرینگے اس موقع پر نواب اکبرخان بگٹی کے پوتے نوابزادہ شازین بگٹی نے کہاکہ موجودہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کے پاس بگٹیوں کو دوبارہ ڈیرہ بگٹی میںلا کر آباد کرنے کا اختیار نہیں ہے وہ برامداغ بگٹی سے کیا بات چیت کرے گا۔ انہوںنے کہاکہ برامداغ بگٹی کے آنے سے حالات یقینا بہتر ہونگے اور تبدیلی آئے گی ۔انہوںنے کہاکہ ڈیرہ بگٹی میں حالات گزشتہ چند ماہ سے بہتر ہورہے ہیں اور سہرا فوج سر جاتا ہے جن کی وجہ سے وہاں پر حالات بہت بہتر ہوگئے نوابزادہ شازین بگٹی نے دعویٰ کیا کہ سابقہ دور میں تمام اختیارات ایک کرنل کے پاس تھے جو صوبے کو چلا رہا تھا اس دور میں اختیارات میجر اور کیپٹن کے پاس ہیں جو بلوچستان کے حکومت کو چلا رہاہے اصل اختیارات انہی کے پاس اس موقع پروزی اعلیٰ بلوچستان مشیر سید جمال شاہ کاکڑ اے این پی کے مرکزی رہنماءرشید خان ناصر ،سید صالح آغا ۔ اے این پی کے محبت کاکا ،نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماون نے نواب اکبرخان بگٹی کی زندگی اور شہادت کے بارے میں اظہار خیال کیا اس موقع پر بلوچستان میںافغان کونسل جنرل وحداللہ مومن اور جمہوری وطن پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے بڑی تعداد نے شرکت کی بعد میں نواب اکبر خان بگٹی کی نویں برسی کے حوالے سے لنگر تقسیم کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…