جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کوئلے کی کان میں دھماکا، 34 کان کن جاں بحق

datetime 31  جولائی  2026 |

کوئٹہ /اسلام آباد (این این آئی)کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں پھنسے 34 کانکنوں میں سے 32 کی لاشیں نکال لی گئی ہیں ،

مزید 2 کانکنوں کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ۔ڈی جی مائنز بلوچستان عبداللہ شاہوانی کے مطابق جاں بحق کانکنوں کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو بھیج دی گئیں ،انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات میں کان میں 42 کانکنوں کے پھنسنے کی خبر سامنے آئی تھی تاہم بعد ازاں تصدیق ہوئی کہ کان میں مجموعی طور پر 34کانکن پھنسے تھے،اس سے قبل کان کے مالک نے کہا کہ دھماکے کے وقت 42 مزدور موجود تھے، دھماکا میتھین گیس کے باعث ہوا۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان نے حادثے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اپنے بیان میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلہ کان میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت ، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کان میں پھنسے تمام مزدوروں تک جلد از جلد رسائی کو یقینی بنایا جائے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔صدرِ مملکت نے اس امر پر زور دیا کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کی تعمیر و ترقی میں محنت کش طبقے کا کردار قابلِ قدر ہے اور ان کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔

اپنے بیان میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے المناک حادثہ میں مزدوروں کی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے سورنج میں کوئلے کی کان میں گیس بھرجانے کے باعث ہونے والا حادثہ نہایت افسوسناک ہے۔ وزیراعظم نے پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو امدادی کاروائیوں کو موثر اور مستعد انداز میں جاری رکھنے اور تمام زخمیوں کے بروقت ریسکیو اور علاج کے لئے خصوصی انتظامات یقینی بنانے اور متاثرہ مزدوروں کے ریسکیو اور ریلیف تک ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور مرحومین کے درجات کی بلندی کے لئے خصوصی دعا بھی کی۔وزیراعظم نے کوئلہ کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جانوں کو محفوظ بنانے کے لئے مستقل حفاظتی اقدامات اٹھانے کا بھی حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…