اسلام آباد (نیوز ڈیسک)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران سے رابطہ کر کے یہ گزارش کی تھی کہ وہ سعودی عرب کو کسی ممکنہ کارروائی کا ہدف نہ بنائے، جس پر ایرانی قیادت نے یقین دہانی کرائی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اخلاص کے ساتھ ایران کے ساتھ کھڑا ہے، تاہم ملک کے اندر اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرانے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہا ہے تاکہ جنگ کا دائرہ نہ پھیلے۔ان کے مطابق پاکستان اعلانیہ اور پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے صورتحال کو سنبھالنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات کو سنجیدگی سے سمجھیں۔اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ موجود ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے ایران سے کہا کہ وہ سعودی سرزمین کو نشانہ نہ بنائے۔
ان کے بقول ایران نے اس بات کی ضمانت طلب کی کہ اس کے خلاف سعودی عرب کی زمین استعمال نہیں ہوگی، جس پر پاکستان کی درخواست کے بعد سعودی عرب نے مطلوبہ یقین دہانی فراہم کر دی۔



















































