اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)سینئر اسرائیلی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی لاش مل گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ ایک زیرِ زمین بنکر میں موجود تھے جہاں حملہ کیا گیا، اور اس کارروائی میں وہ درجنوں افراد سمیت مارے گئے۔ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کے کمپاؤنڈ پر تقریباً 30 بم گرائے گئے۔اسرائیلی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مبینہ طور پر خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی صدر کو بھی دکھائی گئی۔ برطانوی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے ایسی ہی اطلاعات نشر کی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر اب زندہ نہیں رہے، مگر انہوں نے اعتراف کیا کہ اس بارے میں باضابطہ تصدیق موجود نہیں۔ نیتن یاہو کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کئی کمانڈرز اور سینئر جوہری اہلکار بھی مارے گئے ہیں، جبکہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں ضرورت پڑنے تک جاری رہیں گی اور مزید ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔دوسری جانب ایرانی حکام نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای محفوظ مقام پر موجود ہیں اور خیریت سے ہیں۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی اور بحری حملے کیے تھے، جن کے نتیجے میں ایرانی میڈیا کے مطابق 201 افراد جاں بحق اور 747 زخمی ہوئے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ان حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور شہید ہو گئے۔ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کے قریب بھی کئی میزائل گرنے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم ایران نے صدر مسعود پزشکیان اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے محفوظ ہونے کا اعلان کیا ہے۔



















































