اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد اپنے پہلے خطاب میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو چکے ہیں۔
خطاب کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں اہم فیصلے کرنے والی شخصیت اب موجود نہیں رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس نظام سے بچ نہیں سکتے تھے اور مشترکہ نگرانی کے سامنے وہ اور ان کے ساتھی بے بس تھے۔امریکی صدر نے کہا کہ خامنہ ای کی موت نہ صرف ایرانی عوام بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی انصاف ہے، اور یہ ایرانی قوم کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنے ملک کا مستقبل خود سنبھالے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اہداف کے مکمل حصول تک ایران پر شدید کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
دوسری جانب چند اسرائیلی حکام نے بھی ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ خامنہ ای اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک زیرِ زمین بنکر میں موجود تھے جہاں حملہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کمپاؤنڈ پر درجنوں بم گرائے گئے، اور دعویٰ کیا گیا کہ ہلاک شدگان میں خامنہ ای بھی شامل ہیں۔مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر خامنہ ای کی لاش کی تصویر امریکی صدر کو دکھائی گئی، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔



















































