جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

میں چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

datetime 24  جولائی  2024 |

نیویارک (این این آئی)سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب ضیاء نے منتخب وزیراعظم کو ہٹایا تھا، کاش عدالتیں 12 اکتوبر 1999ء کو کھلی ہوتیں جب مشرف نے منتخب وزیراعظم کو باہر پھینکا۔نیویارک بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں ٹی وی چینل کا نام لینا نہیں چاہ رہا جس نے ایسا ماحول بنایا جیسے مارشل لاء لگنے والا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب ضیاء نے منتخب وزیراعظم کو ہٹایا تھا، کاش عدالتیں 12 اکتوبر 1999ء کو کھلی ہوتیں جب مشرف نے منتخب وزیراعظم کو باہر پھینکا۔

انہوں نے کہا کہ کسی نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کی کوشش کی ہوتی تو یہ بھی امتحان ہوتا، یہ امتحان اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہوتا کہ وہ آئین کی بالادستی کیلئے کھڑی ہوتی یا نہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جب میں نے ایک نوٹ لکھا تو میرے دو بیٹوں کا پرسنل ڈیٹا سوشل میڈیا پر ڈال دیا گیا، وہ ڈیٹا ایک سرکاری ادارے سے حاصل کیا گیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میری بیوی جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اس پر ایک ڈاکیومنٹری بنا کر حملہ کیا گیا، یہ ایک جج کی آزمائش ہوتی ہے، یہ ججوں کی آزادی کا ٹیسٹ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ 2022ء تک میرے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے وہ اچانک تبدیل ہوگئے، آج پراپیگنڈا وہ کر رہے ہیں جنہوں نے اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ سے فائدہ اٹھایا تھا، اس وقت انہیں ملک کی کوئی ہائیکورٹ ریلیف نہیں دے رہی تھی۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ جج کا اصل امتحان ہوتا ہے جس سے جج اور عدالت پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے، تنقید سے جج کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…