ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے آئی ایم ایف کی بڑی شرط مان لی، بڑے فیصلوں میں پنشنرز کے لئے بھی بڑی خبر

datetime 5  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(ن لائن) نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے بڑے فیصلوں کی تیاری کرلی۔ آئی ایم ایف اورعالمی بینک کے ساتھ اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ کے بارے میں مشاورت حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی۔ ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے بڑے فیصلوں کی تیاری

کرلی جس میں پنشنرز پر ٹیکس لگانا بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی تجویزپرتمام پینشنرز پرساڑھے 7 فیصد ٹیکس عائد کئے جانے کا امکان ہے۔ وفاقی حکومت پینشز کو سالانہ کی مد میں 250 ارب روپے کی ادائیگی کرتا ہے، گریجیوٹی پربھی ٹیکس عائد کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ پلان میں وفاقی حکومت جنرل پرویڈنٹ فنڈ کے منافع پر بھی ٹیکس عائد کرنا بھی شامل ہے، حکومت کو پینشن فنڈز پر 7.5 فیصد ٹیکس عائد کرنے سے 18 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہونے کا تخمینہ ہے۔دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اقتدار میں آئے گی تو عوام کو روٹی، کپڑا، مکان اور روزگار ملے گا،ملک میں دائیں بازو کی جماعتوں کی پالیسیاں ناکام ہوچکیں، پاکستان پیپلزپارٹی کی معاشی پالیسیاں ہی ملک کو آگے لے جاسکتی ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ صرف پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ اپنی معاشی پالیسیاں عام آدمی کے ماہانہ بجٹ کو سامنے رکھ کر بناتی ہے، دائیں بازو کی جماعتوں کی معاشی پالیسیاں صرف امیروں کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ روٹی، کپڑا، مکان اور روزگار کے وعدے کو پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے ہر دور میں نبھایا ہے، جب پاکستان پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت تھی تو پانچ افراد کے عام گھرانے کی مہینے

میں آٹے کی ضروریات ایک ہزار 975 روپوں میں پوری ہوجاتی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کی حکومت میں پانچ افراد کے عام گھرانے کی آٹے کی ماہانہ ضروریات ساڑھے تین ہزار روپوں میں پوری ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی پی پی دورِ حکومت میں ایک عام گھرانا اپنے بچوں کے کپڑے 600 روپوں میں خرید لیتا تھا اور آج

وہ اس مد میں تین ہزار 600 روپے خرچ کررہا ہے، پی پی پی دورِ حکومت میں پانچ افراد کا ایک عام کنبہ گھر کے کرائے کی مد میں اوسطاً ساڑھے تین ہزار روپے ادا کرتا تھا اور آج 22 ہزار روپے ادا کررہا ہے، اگر عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے پی پی پی دور میں مہنگائی میں اضافہ ہوا تو اسی اعتبار سے ہم نے 59 فیصد

تک عام آدمی کی آمدنی میں بھی اضافہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے وفاقی دورِ حکومت میں تنخواہوں کی مد میں 150 فیصد تک کا اضافہ کیا تاکہ عالمی اقتصادی بحران کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑے،پاکستان پیپلزپارٹی انشااللہ آئندہ حکومت بنا کر عوام کے بنیادی مسائل کو ہمیشہ کی طرح حل کرتی رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…