جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان بڑی پابندیوں سے بچ گیا ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کو سرپرائز دیدیا

datetime 10  دسمبر‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی ) امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیکل پومپیو نے پاکستان کے لیے صدارتی استثنی جاری کیا ہے جس سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر لگنے والی پابندیوں سے اسے چھوٹ مل جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دوروز قبل امریکی

سیکریٹری اسٹیٹ نے پاکستان اور دیگر 9 ممالک کو سال 20-2019 کے دوران مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزی پر خاص تشویش والے ممالک قرار دیا تھا۔پاکستان نے اس عمل کو من مانا اور منتخب جائزہ قرار دے کر مسترد کردیا تھا جو زمینی حقائق کے منافی اور اس پورے طریقہ کار کے معتبر ہونے پر سنگین شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔پاکستان کو اس فہرست میں امریکی بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ 1998 کے تحت شامل کیا گیا جس کے نتیجے میں مبینہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں۔تاہم امریکی ایمبیسیڈر ایٹ لارج برائے مذہبی آزادی سیموئل ڈی بران بیک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ کچھ ممالک کو معاشی پابندیوں سے استثنی دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا تھا کہ پاکستان، نائیجیریا، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان کو سیکریٹری نے صدارتی کارروائی کی شرط کے لیے چھوٹ جاری کی ہے اور امریکا کے اہم قومی مفادات کی وجہ سے استثنی دینے کے اختیار کو استعمال کیا گیا۔

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی جس نے یہ فہرست جاری کی اس نے بھارت کو بھی ان ممالک میں شمار کرنے کی تجویز دی تھی لیکن پیر کو جاری کردہ فہرست میں بھارت کا نام نہیں تھا۔پاکستان نے نشاندہی کی تھی کہ رپورٹ میں بھارت کو نظر انداز کر دیا گیا جہاں آر ایس ایس۔

بی جے پی حکومت اور ان کے قائدین منظم انداز میں مذہبی آزادیوں کی کھلے عام خلاف ورزیاں اور اقلیتی برادری کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں، اس امتیازی رویے نے امریکی رپورٹ کی ساکھ پر سوالات پیدا کیے ہیں۔مذکورہ معاملہ واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران بھی اٹھایا گیا

جب ایک صحافی نے ایمبیسڈر بران بیک کو یاد دلایا کہ مودی حکومت نے امتیازی قوانین نافذ کیے ہیں اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو کھلے عام نشانہ بنایا جارہا ہے اس کے باوجود بھارت کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔جس کے جواب میں بران بیک کا کہنا تھا کہ ایسے بہت سے تجاویز

تھی جن پر سیکریٹری اسٹیٹ نے عمل نہیں کیا اور یہ ان میں سے ایک تھی۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے بھارت میں صورتحال کو نزدیک سے دیکھا ہے ، سیکریٹری اسٹیٹ متعدد مرتبہ ویاں دورے پر گئے ہیں اور وہ بھارت میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔

بھارت کے ساتھ مختلف رویہ کیوں رکھا گیا کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت سے کام حکومت نے کیے ہیں جبکہ بھارت میں کچھ کام حکومت نے کیے اور قانون منظور کیا جبکہ زیادہ تر وہاں مذہبی فسادات ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ جب ایسا ہوتا ہے تو ہم اس بات کا تعین

کرتے ہیں کہ مذہبی فسادات ہونے کے بعد کیا پولیس اور عدالتی کارروائی کا بھرپور نفاذ ہوا کہ نہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ دنیا بھر میں توہین مذہب کے الزام میں قید افراد کی نصف تعداد پاکستان میں ہے اور اس نکتے کو بھی پاکستان کو اس فہرست میں شامل کرتے ہوئے مدِ نظر رکھا گیا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں بھی شامل ہے جہاں جبری طور پر زیادہ تر اقلیتی دلہنوں کو چین بھیجا جاتا ہے۔تاہم امریکی مندوب برائے مذہبی آزادی نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو خاص تشویش والا ملک نہ قرار دینے مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں یہ مسائل نہیں پائے جاتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…