جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

عورت مارچ کو روکا جاسکتاہے یا نہیں؟ لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے درخواست نمٹاد ی

datetime 3  مارچ‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )لاہور ہائیکورٹ نے عورت مارچ کے حوالے سے دائر درخواست کو نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ آئین و قانون کے مطابق عورت مارچ کو روکا نہیں جا جا سکتا،ضلعی انتظامیہ عورت مارچ کی اجازت سے متعلق درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے ،منتظمین اور شرکاء آئین و قانون کے اندر رہ کر عورت مارچ کریں ۔

نفرت انگیز تقاریر اور سلوگن نہیں ہونے چاہیے ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مامون رشید شیخ نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی ۔عدالتی حکم پر پولیس نے اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کرا دیا ۔ جس میں کہا گیا کہ سول سوسائٹی کے شرکا ء کے اعتراضات سنے ہیں،عورت مارچ پر کسی کو اعتراض نہیں صرف طریق کار پر تحفظات ہیں۔ پولیس نے اپنے جواب میں مزید موقف اپنایا کہ مال روڈ پر احتجاج پر مکمل پابندی عائد ہے،مارچ میں استعمال ہونے والے بینرز اور سلوگن پر لوگوں کواعتراضات ہیں،پولیس کی جانب سے عورت مارچ کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی ۔درخواست گزار نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی عورت مارچ رکوانے کا نہیں کہا ۔جس پر خواتین کی وکیل نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست میں خود لکھا ہے کہ عورت مارچ ریاست مخالف اقدام ہے ۔درخواست گزار نے کہا کہ جو جہاں عورت مارچ کا کیس لڑ رہے ہیں یہ می ٹو مہم کے بھی وکیل ہیں۔خواتین ہمارے معاشرے کا حسن ہیں لیکن میرا جسم میری مرضی کی باتیں ہوتی ہیں ۔عورت مارچ قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے ۔دنیا میں یہ تاثر ہے کہ پاکستان میں خواتین کو دبا کررکھا جاتا ہے ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مامون رشید شیخ نے کہا کہ عورتوں کے حقوق پرکوئی دوسری رائے نہیں ہے۔

لیکن اس وقت یہاں معاملہ عورت مارچ کا ہے ،عورت مارچ کے آرگنائزرزکی ذمہ داری ہے کہ غیر اخلاقی سلوگن نہیں ہونے چاہیے ۔خواتین کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار نے عورت مارچ کو ریاست مخالف ایجنڈا کہا ہے جو بہت خطرناک الزام ہے۔ اس دوران خواتین کے وکیل نے عورت مارچ کے 15 چارٹر آف ڈیمانڈ پڑھ کر سنائے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ غیر اخلاقی سلوگن اچھی بات نہیں ۔خواتین کے وکیل نے کہا کہ ہم گارنٹی دینے کو تیار ہیں کہ قانون و آئین کے بر عکس کوئی اقدام نہیں ہو گا ۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عورت مارچ میں کتنے لوگ شریک ہو رہے ہیں۔

خواتین کے وکیل نے بتایا کہ تقریباً4 سے 5 ہزار لوگ عورت مارچ میں شرکت کریں گے،عورت مارچ میں مرد و خواتین اور ٹرانسجینڈر شرکت کریں گے ۔فاضل عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کو عورت مارچ کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں ، عورت مارچ کے منتظمین اور شرکاء آئین و قانون کے اندر رہ کہ عورت مارچ کریں ،عورت مارچ کے دوران نفرت انگیز تقاریر اور سلوگن نہیں ہونے چاہیے ۔ڈی آئی جی آپریشنز نے عورت مارچ کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔فاضل عدالت نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عورت مارچ کی اجازت سے متعلق منتظمین کی درخواست کا قانون کے مطابق فیصلہ کرے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…