منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

8 ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن کے 6 بے نامی اکانٹس کا سراغ مل گیا 5 سال میںکتنا ٹیکس چوری کیا گیا، کاروبار کس شہر میں کاروبار کرتے تھے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 10  اپریل‬‮  2019 |

کراچی( آن لائن ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کراچی میں 8 ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن کے 6 بے نامی اکائونٹس کا سراغ لگا لیا، اکائونٹس رکھنے والے تاجروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے۔تفصیلات کے مطابق منی لانڈرنگ کے خلاف مہم میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کراچی میں بڑی کامیابی حاصل کرلی۔

کراچی میں 8 ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن کے 6 بے نامی اکائونٹس کی نشاندہی ہوئی ہے۔انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو میں 4 تاجروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، چاروں تاجروں کی جانب سے 5 سال میں ایک ارب 26 کروڑ سے زائد ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے ضلع بونیر اور کراچی صدر موبائل مارکیٹ کے پتے درج ہیں۔ مذکورہ تاجروں زور طالب خان، عمار خان، محمد حسن اور محمد حمزہ کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے۔ایف بی آر حکام کے مطابق ملزم زور طالب خان سالار انٹر پرائزز اور سالار مائننگ کا پروپرائٹر ہے۔ زور طالب خان نے 2012 سے 2017 کے دوران 6 بے نامی اکائونٹ کھولے، 5 سال میں ان 6 بے نامی اکائونٹس سے 8 ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن کی گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کا بیشتر کاروبار کراچی میں ہی تھا، تاجر زور طالب خان کو نوٹس بھیجا گیا تو تاجر نے لاعلمی کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز ہی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے حوالے سے نیب کے اختیارات مانگے تھے۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ اینٹی منی لانڈرنگ قانون میں خامیوں کی وجہ سے نتائج نہیں مل پاتے، ریکارڈ بروقت نہیں ملتا، تحقیقات التوا میں چلی جاتی ہیں۔ایڈیشنل ڈی جی نے کہا تھا کہ بینک سے ریکارڈ لینا ہے تو سیشن جج کی اجازت درکار ہے، سیشن جج سے اجازت میں کئی کئی ماہ نکل جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے سیشن جج اجازت ہی نہیں دیتا۔ جو ریکارڈ 6 ماہ بعد ملتا ہے وہ 6 دن میں ملے تو تحقیقات تیز ہوسکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…