آج وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم کے دو وزراء کے بارے میں ایک حیران کن انکشاف کیا‘ آپ وہ انکشاف ملاحظہ کیجئے، آپ کو یاد ہو گا عمران خان ماضی میں ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم عمران خان کے بارے میں کیا کہتی تھی، میں بہرحال وزیراعظم کے آج کے بیان کو پازیٹو سمجھتا ہوں‘ یہ بات سو فیصد درست ہے لوگوں سے ملنے سے پرسپشن تبدیل ہوتے ہیں‘ یہ ضروری نہیں ہم جسے شیطان یا ولی سمجھ رہے ہیں وہ ملنے کے بعد بھی شیطان یا ولی ثابت ہو‘
ہم زندگی میں بے شمار لوگوں سے ملتے ہیں تو پتہ چلتا ہے ہم جسے کاہل‘ کند ذہن‘ نالائق‘ لالچی اور بے وفا سمجھ رہے تھے دنیا میں اس سے اچھا کوئی شخص نہیں اور ہم جسے عظیم آدمی سمجھتے تھے وہ ایک نہایت ہی جھوٹا آدمی ہے‘ پرسپشن اور ریالٹی کا فرق صرف ملاقات سے واضح ہوتا ہے‘ آپ دیکھ لیجئے عمران خان نے ایم کیو ایم کے صرف دو لوگوں کے ساتھ کام کیا اور ان کا پوری پارٹی کے بارے میں تاثر بدل گیا اور یہ اب اس جماعت کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کیلئے تیار ہیں جسے یہ کل دہشت گرد سمجھتے تھے‘یہ بہت اچھی بات ہے‘میرا خیال ہے وزیراعظم کو یہ فارمولہ میاں شہباز شریف اور اسحاق ڈار پر بھی آزما کر دیکھ لینا چاہیے‘ یہ شہباز شریف سے ملنے اور ہاتھ ملانے کیلئے تیار نہیں ہیں‘ میرا مشورہ ہے آپ اب شہباز شریف سے بھی مل لیں ہو سکتا ہے ایم کیو ایم کی طرح شہباز شریف بھی نفیس انسان ثابت ہوں‘ اسی طرح اسحاق ڈار نے ڈیلیور کیا تھا‘ انہوں نے ڈالر کو 103 پر رکھا‘ مہنگائی بھی کنٹرول کی‘ معاشی گروتھ بھی پانچ اعشاریہ آٹھ تک پہنچائی‘ گردشی قرضے بھی لمٹ میں رکھے‘ بجلی اور گیس بھی پوری کی اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ کیا‘ آپ ان سے بھی مل لیں‘ آپ انہیں چند ماہ کیلئے وزارت خزانہ کانٹریکٹ دے کر دیکھ لیں ہو سکتا ہے یہ معیشت کی ڈوبتی کشتی کو پار لگا دیں‘ یہ بھی نفیس انسان ثابت ہوں۔ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، کیا پیپلز پارٹی واقعی سیریس ہے‘ یہ ن لیگ کے ساتھ مل کر دھرنا دے گی یا پھر اکیلی‘اور کیا یہ واقعی لات مار کر حکومت گرا سکتی ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا ہمارے ساتھ رہیے گا۔



















































