منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد کی صورتحال کراچی اور لاہور سے بھی بدتر ، سپریم کورٹ نےچیئرمین سی ڈی اے کی کلاس لے لی

datetime 4  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میںبنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت، عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کی طرف سے ایک ماہ میں ڈمپنگ پراجیکٹ کو مکمل کرنے کی یقین دہانی کرانے پر کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی ہے۔کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت عدالتی حکمنامہ پر تاحال عمل درآمد یقینی نہ بنانے کے عمل جسٹس گلزار نے برہمی کو اظہار کرتے ہوئے چیئر مین سی ڈی اے سے کہا کہ کیا سی ڈی اے کو عدالت نے جگانا ہے،سی ڈی اے اپنا کام کیوں نہیں کرتا،عدالت حکم پاس کر رہی ہے ان پر سی ڈی اے عمل نہیں کرتا،اگر آپ اس قابل نہیں ہیں تو یہاں بیٹھے کیوں ہیں،اب تک کیا کیا ہے آپ نے، آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہیں، کیا آپ سارے اسلام آباد کو کچی آبادی بنانا چاہتے ہیں، نئے ائیرپورٹ پر جا کر دیکھیں وہاں پرکیا ہو رہا ہے ،مجھے لگا یہ صورتحال صرف کراچی میں ہے، اسلام آباد لاہور اور کراچی سے بھی زیادہ گندا ہوگیا ہے، اسلام آباد کو وفاقی دارالحکومت بنانے کا مقصد ہی فوت ہو گیا ہے،آپ نے پہاڑوں کے پہاڑ اور جنگلوں کے جنگل ختم کر دیے ہیں ،مارگلہ کو تو سپریم کورٹ نے بچا کر رکھا ہوا ہے،ندیاں نالے گندگی کے ڈھیر بن چکے ہیں، راول جھیل کا کیا حال کر دیا ہے،آپ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے، اس سے بہتر ہے آپ کسی اور جگہ تشریف لے جائیں، آپ کو پلاٹ تو مل گیا ہو گا، دنیا کے بہت سے دارالحکومت دیکھے ہیں وہاں ہر چیز بہترین ہوتی ہے، آپ کہتے ہیں تو سی ڈی اے اور مونسپل کارپوریشن اسلام آباد کو تحلیل کر دیتے ہیں،چیئرمین سی ڈی اے صاحب ہمیں لالی پاپ نا دیں۔

میں جب سے اسلام آباد آیا ہوں دیکھ رہا ہوں آپ سے کشمیر ہائی وے مکمل نہیں ہوا،کشمیر ہائی وے پر سٹرکچر کو ادھورا چھوڑ رکھا ہے، کبھی یہ نہیں سوچا ان جگہوں پر جرائم پیشہ افراد پناہ لے سکتے ہیں، ان جگہوں پر بھنگی اور چرسی بیٹھے ہوتے ہیں، کیا یہ آپ کی کارکردگی ہے، آپ کا بس ایک ہی کام ہے پلاٹ بنا کر بیچتے رہو اور کچی آبادیاں بناتے رہیں، میں تو حیران ہوتا ہوں کیا یہ اسلام آباد ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس سارے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے،ہر کمرشل اور رہائشی منصوبے میں فضلہ ٹھکانے لگانے کا کوئی اپنا انتظام بھی ہونا چاہیے،۔ اس موقع پر چیئر مین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ بدقسمتی سے گزشتہ کے عدالتی احکامات پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، اسلام آباد میں کوئی مستقل ڈمپنگ سائٹ نہیں،سنگجانی میں مستقل ڈمپنگ سائٹ کا انتخاب کیا گیا ہے،آج تحفظ ماحولیات کی ٹیم سنگجانی سائٹ کا وزٹ کرے گی،ایک ماہ میں پراجیکٹ کی تمام رکاوٹیں دور کر لیں گے،عدالت مہلت دے ایک ماہ میں پیش رفت دیں گے، انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے آج تک سی ڈی اے سے کوئی پلاٹ نہیں لیا ۔عدالت چیئر مین سی ڈی اے کی طرف سے ایک ماہ کی مانگی گئی مہلت کو قبول کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…