منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ملک ریاض بہت قابل انسان ہیں یہ پاکستان کی قسمت بدل سکتے ہیں سپریم کورٹ میں جسٹس فیصل عرب کے ملک ریاض کیلئے تعریفی ریمارکس

datetime 16  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں گزشتہ روز بحریہ ٹاؤن کیس کی سماعت ہوئی، اس سماعت میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے وکیل علی ظفر پیش ہوئے،موقر انگریزی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق سماعت کے دوران جسٹس فیصل عرب نے ملک ریاض کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ان جیسے لوگوں کی ضرورت ہے اوراس رئیل سٹیٹ ٹائیکون نے بہت زبردست خدمات سرانجام دی ہیں،جسٹس فیصل عرب نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ ملک ریاض بہت قابل انسان ہیں یہ پاکستان کی قسمت بدل سکتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ

ایسے لوگوں کو قوم کے لیے کام کر نے دیں۔ واضح رہے کہ سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف تینوں کیسز کے الگ الگ فیصلے آئے تھے، بحریہ ٹاؤن کراچی کی الگ پیش کش کریں،اس دوران بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کی 170 ارب جبکہ باقی اسلام آباد اور مری کے لیے 30 ارب روپے کی پیش کش کرتے ہیں۔جس پر عدالت نے ان کی پیشکش مسترد کردی ، عدالت نے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کو تینوں مقدمات کی الگ الگ پیش کش تحریری طور پر دینے کی ہدایت کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…