بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

دہشتگردوں کیخلاف کارروائی ،امریکی پیشکش پر پاکستان کا موقف سامنے آگیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(آن لائن)امریکا کے سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کی اسلام آباد آمد سے چند روز قبل پاک افغان سرحد پر افغان حصے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی امریکی پیشکش کو پاکستان نے خوش آئند قرار دے دیا۔امریکا کے سرکاری میڈیا ’وائس آف امریکا ریڈیو‘ کے مطابق پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ امریکی پیشکش خطے میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تعاون کا ایک خوش آئند اقدام ہے۔خیال رہے کہ امریکا کے

سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کی آئندہ ماہ 3 دسمبر کو اسلام آباد آمد متوقع ہے جو پاکستان کو جنوبی ایشیا کے لیے نئی امریکی پالیسی کے نفاذ پر اعتماد میں لینے کے لیے اعلیٰ قیادت سے بات چیت کریں گے۔نئی امریکی پالیسی کے مقاصد میں طالبان کو میدانِ جنگ میں شکست دے کر مذاکرات کی میز پر لے کر آنا بھی شامل ہے۔پاکستان، طالبان کے ساتھ مفاہمت اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے امریکی منصوبے کو خوش آئند قرار دیتا ہے تاہم اسلام آباد کا یہ بھی موقف ہے کہ اس مسئلے کا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔اس سے قبل یہ خبریں بھی سامنے آئیں تھیں کہ امریکا کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفرڈ بھی اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں جہاں وہ اپنے پاکستانی ہم منصب اور دیگر سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔تاہم واشنگٹن میں موجود ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جنرل جوزف ڈنفرڈ پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے یا پھر کم از کم سیکریٹری دفاع کے دورے سے قبل پاکستان نہیں آئیں گے۔واشنگٹن میں موجود سفارتی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کرنے کی امریکی پیشکش اور پاکستان کی جانب سے اس پیشکش کو قبول کرنا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے وائس آف امریکا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سرحد کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے باہمی تعاون کی پیشکش کی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے پاک افغان سرحد سے متصل اپنے علاقوں کو دہشت گردوں سے خالی کروا کے یہاں ریاست کی رٹ بھی قائم کر دی ہے

جبکہ پاکستان نے سرحد پر نفری بڑھانے اور نئی چوکیاں قائم کرنے کے اقدامات کیے ہیں اس کے ساتھ ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کا بھی آغاز کیا گیا تاکہ سرحد پر دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت ختم کی جاسکے۔یاد رہے کہ پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی پیشکش جنرل جان نکولسن کی جانب سے کی گئی تھی جو افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی کمان کررہے ہیں۔رواں ہفتے (20 نومبر کو) کابل میں پریس کانفرنس

کرتے ہوئے جنرل جان نکولسن کا کہنا تھا کہ ان کی اس پیشکش کا مقصد پاکستانی فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف افغان سرحد کے اندر فائرنگ کے واقعات میں کمی لانا ہے۔امریکی جنرل نے کہا کہ ہم نے یہ بھی پیشکش کی ہے کہ اگر پاکستان کو سرحد کے اس حصے میں کسی بھی طرح کے خدشات ہیں تو وہ ہمیں بتائیں اور ہم اس کے خلاف کارروائی کریں گے جس کے بعد سرحد پار شیلنگ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔افغان حکام نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانی فوج نے گزشتہ ہفتے سرحد پار افغان صوبے کنار میں سیکڑوں کی تعداد میں مارٹر شیل فائر کیے جس نے علاقے میں رہنے والے دیہاتیوں کو سخت سردی کے موسم میں اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور کردیا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…