اسلام آباد(نیوزڈیسک)نجی ٹی وی کے پروگرام میں معروف صحافی کامران خان نے جنرل رضوان اختر کی ریٹائرمنٹ پر تجزیہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پروموشن ہونے کے بعد جنرل ر ضوان اختر کو 7نومبر2014ءمیں اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی سفارش پر
آئی ایس آئی کاسربراہ وزیراعظم نوازشریف نے مقرر کیاتھاجبکہ پچھلے سال گیارہ دسمبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ سنبھالا اور انہوں نے روٹین کے ٹرانسفر کئے تو انہوں نے جنرل رضوان اختر کوآئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹاکر انہیں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی این ڈی یو کا صدر تعینات کردیاگیا، اس وقت بھی تھوڑے سے لوگ چونکے تھے جو ملٹری افیئرز سمجھتے ہیں کیونکہ عام طورپر لیفٹیننٹ جنرل کی پوزیشن ایک سٹاف پوزیشن کے بعد کمانڈ پر جاتاہے یا کورکمانڈکرتاہے اور اگر وہ کمانڈ کرچکاہو توتقریباً دوسال کی مدت کے بعد وہ سٹاف پوزیشن پر آتے ہیں لیکن جنرل رضوان اختر کو سٹاف پوزیشن سے ہی سٹاف پوزیشن پر تعینات کیاگیاتھاتو کچھ باتیں سامنے آئی تھیں لیکن اس کو اہمیت نہیں دی گئی تھی کیونکہ اب جنرل رضوان نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے حوالے سے جو فیصلہ کیا ہے وہ بہت اہم ہے کیونکہ جنرل رضوان اختر نے اپنے خط میں بتایا ہے کہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، میں ذاتی وجوہات کی بناءپر استعفیٰ دے رہاہوں میں بہت بھاری دل سے لیکن ذاتی وجوہات کی بناءپر جارہاہوں ، میں تمام ساتھیوں اورسٹاف کاشکرگزار ہوں۔



















































