منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے ساتھ معمول کا کاروبار ختم‎ امریکہ نے پاکستان کو دی گئی دھمکی پرعمل شروع کردیا اور کیا کیا جائیگا؟امریکہ نے وارننگ جاری کردی‎

datetime 23  اگست‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی )امریکا کی جانب سے افغانستان، پاکستان اور جنوب ایشیائی خطے کیلئے نئی اور پہلے سے سخت پالیسی کے اعلان کے بعد امریکا کے قومی سلامتی کونسل کے ترجمان مائیکل اینٹن نے بھی پاکستان کو خبردار کردیا۔امریکی ویب سائٹ پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اب تک پاکستان کے ساتھ معاملات جس طرح جاری تھے وہ ختم ہوگئے ہیں اور امریکا حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں اور ان گروہوں کا ساتھ دینے والے

پاکستانی حکام پر پابندیاں عائد کرسکتا ہے۔گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اعلان کردہ نئی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے پاکستانی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ انہیں صدر اور انتظامیہ نے نوٹس دے دیا ہے۔مائیکل اینٹن نے دعوی کیا کہ طویل عرصے سے امریکا پاکستان کے ساتھ نہایت صبر سے پیش آتا رہا ہے، تاہم ہمیں ان سے اس کا کوئی خاص فائدہ موصول نہیں ہورہا۔یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی راہ ہموار کرتے ہوئے امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے وعدے سے مکر گئے تھے جبکہ انہوں پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام بھی ایک بار پھر دہرادیا تھا۔امداد میں کمی کی دھمکی دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے ان ہی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے۔پاکستان کو ملنے والی امریکی امداد پر بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ امداد کے بدلے میں امریکا کو پاک افغان سرحدی علاقوں سے سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر کوئی کارروائی دیکھنے کو نہیں ملتی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان دہشت گرد گروہوں کی فعال اور براہ راست حمایت کا ذمہ دار ہے۔ترجمان امریکی سلامتی کونسل نے بھارت اور افغانستان کے

بڑھتے ہوئے تعلقات پر اسلام آباد کی تشویش کو بہانہ قرار دے کر خارج کردیا۔انہوں نے دعوی کیا کہ بھارت جو افغانستان میں کررہا ہے وہ پاکستان کے لیے خطرہ نہیں، بھارت فوجی بیس قائم نہیں کررہا، اپنے فوجی تعینات نہیں کررہا، ایسا کچھ نہیں کررہا جس پر پاکستان شکایت کرے۔ساتھ ہی پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بات کا فیصلہ کرے کہ اس کے لیے دہشت گردوں کا اتحادی بننا، انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا زیادہ اہم ہے یا امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات۔انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان اپنی پسند کا انتخاب کرے اس کے بعد ہم پاکستان کی پسند کے مطابق اپنا انتخاب کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…