منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سیاہ فاموں کو غلام بنانا اب بھی ہمارے ڈی این اے میں ہے: اوباما

datetime 23  جون‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکی صدر براک اوباما نے ایک ریڈیو انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ امریکی تاریخ پر سیاہ فاموں کو غلام بنانے کا سایہ چھایا ہوا ہے اور ’یہ اب بھی ہمارے ڈی این اے میں موجود ہے‘۔صدر اوباما نے یہ بات ساؤتھ کیرولائنا میں فائرنگ کے واقعے کے بعد دیا جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ مبینہ طور پر نسلی امتیاز کا نتیجہ ہے۔صدر اوباما نے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو نسلی امتیاز کو شکست دینی ہو گی۔’نسلی امتیاز سے ہمیں چھٹکارا نہیں ملا۔ تہ معاملہ صرف یہ نہیں کہ پبلک میں لفظ نیگر نہ بولا جائے کیونکہ یہ لفظ بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔‘بطور صدر یہ پہلا موقع ہے کہ اوباما نے لفظ نیگر استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے اپنی کتاب ’Dreams from my Father‘ میں یہ لفظ استعمال کیا تھا لیکن وہ اس وقت صدر نہیں تھے۔واضح رہے کہ لفظ ’نیگر‘ سیاہ فام افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس لفظ کے استعمال کو توہین آمیز سمجھا جاتا ہے۔انٹرویو میں اوباما نے کانگریس پر تنقید کی کہ اس نے اسلحے کے بارے میں سخت قوانین نہیں بنائے۔’یہ محض واضح امتیاز کا مسئلہ نہیں ہے۔ معاشرے 200 یا 300 سال قبل ہونے والے واقعات کو راتوں رات مٹا نہیں سکتا۔‘یاد رہے کہ ساؤتھ کیرولائنا کے علاقے چارلسٹن میں ایک افریقی امریکن چرچ پر ایک شخص نے فائرنگ کی تھی جس میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔جس شخص نے مبینہ طور پر اس چرچ پر فائرنگ کی تھی اس نے ایک تصویر میں کنفیڈریٹ پرچم اٹھایا ہوا ہے۔ کنفیڈریٹ پرچم جنوبی ریاستوں نے سول جنگ کے دوران استعمال کیا تھا جب ان ریاستوں نے غلامی کے خاتمے کے خلاف دیگر ریاستوں سے علیحدہ ہونے کی کوشش کی تھی۔کنفیڈریٹ پرچم ساؤتھ کیرولائنا کے دارالحکومت میں اب بھی لرا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد سے ریاست میں بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ پرچم لہرانے دیا جائے یا اس کو اتار لیا جائے۔صدر اوباما نے اپنے انٹرویو میں ریاست میں لہرائے جانے والے پرچم کا تو ذکر نہیں کیا لیکن اتنا ضرور کہا کہ اس قسم کے پرچم عجائب گھروں میں ہونے چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…