اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

وفاقی بجٹ،اپوزیشن رہنماﺅں کی شدید تنقید

datetime 6  جون‬‮  2015 |

۔ بجٹ دستاویزات سے صاف عیاں ہے کہ حکمرانوں نے اپنا نہیں بلکہ آئی ایم ایف کا تیارکردہ بجٹ پیش کیا ۔پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو ، جنوبی پنجاب کے صدر و سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود ، جنرل سیکرٹری وسطی پنجاب تنویر اشرف کائرہ ، لاہور کی صدر ثمینہ خالد گھرکی ،پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر قاضی احمد سعید ،فائزہ ملک نے وفاقی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوام کو زندہ درگو کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ اعداد وشمار واضح بتاتے ہیں کہ کشکول توڑنے کا دعوی کرنے والوں نے دونوں ہاتھوں سے قرضے مانگنا شروع کردئیے ہیں ۔ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ لادھ دیا گیا ہے ۔ غریب آدمی کو ریلیف دینے کی بجائے حکمرانوں نے اپنے حواریوں اور امیر طبقے کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے جسے پیپلز پارٹی مسترد کرتی ہے ۔ خسارے کے بجٹ سے ظاہر ہے کہ حکومت ناکام ہے اور وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ پیپلز پارٹی ورکرز کے صدر صفدر عباسی نے کہا کہ بجٹ کو کسی طرح بھی عوامی خواہشات کے مطابق قرار نہیں دیا جا سکتا ۔وفاقی وزیر خزانہ نے ایوان میں جو بجٹ دستاویزپڑھی ہے وہ انتہائی مایوس کن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انتخابی مہم کے دوران عوام سے کئے گئے وعدے پورے اور بجٹ کی منظوری سے پہلے اس پر نظر ثانی کر کے عام آدمی کو ریلیف دے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم سو فیصد اضافہ کیا جائے ۔ مسلم لیگ (ق) پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری ظہیر الدین ، پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سردار وقاص حسن اختر موکل ،عامر سلطان چیمہ ، خدیجہ عمر فاروقی نے وفاقی بجٹ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشی دھماکہ کرنے کی دعویدار حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عام اور غریب آدمی کو ریلیف دینے کی بجائے اس کا ہی دھماکہ کر دیا ہے ۔ بجٹ میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کی ترقی کےلئے خطیر رقم مختص کرنے کی بجائے اونٹ کے منہ میں زیر ے کے مترادف بجٹ رکھا گیا ہے جبکہ اسکے برعکس کمپنی کی مشہور ی کے منصوبوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ حکومت نے آئندہ بجٹ کے لئے ان شعبوں میں ٹیکسز کم یا ختم کئے ہیں جہاں سے انہیں کک بیکس حاصل ہونی ہیں۔ مسلم لیگ (ق) اس بجٹ کو مسترد کرتی ہے اور اسکے خلاف ہر فورم پر احتجاج کیا جائے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7.5اضافہ اور سیکرٹریوں کی خصوصی تنخواہ میں 100فیصد اضافہ ملازمین سے سنگین مذاق ہے ۔انہوںنے کہا کہ بجٹ عوامی امنگوں اور حکومتی وعدوں پر پورا نہیں اتر ا۔253.2ارب کے ٹیکسوں سے مہنگائی کا طوفان آئے گا جس سے ہر طبقہ فکر متاثر ہوگا ۔انہوںنے کہا کہ بجٹ میں غریب اور سفید پوش عوام کے لیے کچھ نہیں ہے اور نہ ہی انکے لئے مہنگائی سے ریلیف کیلئے کسی پروگرام کا اعلان کیا گیا ۔زبانی جمع خرچ سے عوام کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بجٹ کی حقیقت ہاتھی کے دانت جیسی ہے کھانے کے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…