اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

’’تقریر پھر کبھی سہی۔۔۔‘‘

datetime 10  اکتوبر‬‮  2017 |

بے شک قرآن سخت سے سخت دلوں کو نرم کر دیتا ہے ، زمانہ جاہلیت میں عرب جنگوں اور لڑائیوں کی وجہ سے مشہور تھے ، دو قبائل میں دشمنی شروع ہوتی تو کئی دہائیاں بیت جاتیں اور وہ دو قبائل باہم دست و قریباں رہتے،  شعر کا ایک مصرعہ ان واقعات کی کیا خوب منظر کشی کرتا ہے کہ ’’کبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑا۔۔کبھی گھوڑا آگے دوڑانے پر جھگڑا‘‘عرب قبائل کی

ایک مشہور جنگ جو 70سال سے زائد عرصہ جاری رہی صرف اس بات پر شروع ہوئی کہ ایک مخالف قبیلے کے شخص نے پتھر مار کر ایک قبیلے کی اونٹنی کو زخمی کر دیاتھا، کئی نوجوان اس جنگ کا ایندھن بنے، خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوئے مگر اسلام نے آکر باہم دست و گریباں ان عربوں کو ایک دوسرے کی ڈھال بنا دیا، یہ قرآن کا ہی اعجاز تھاجاہلیت کی تمام حدود کو پھلانگ جانے والے عرب جو بیٹی پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیتے تھے ، جو جنگوں کے بہانے تلاش کرتے ان کے دلوں کو نرم کر دیا، ان کی تلواریں پھر اٹھیں تو دین اسلام کے دشمنوں کے خلاف، پھر یوں ہوا کہ جو ظالم تھے ان کی کایا پلٹ گئی اور وہ مظلوموں کی حفاظت اور حمایت کیلئے سر کٹادینے کو دنیا و مافیا سے بہتر سمجھنے لگے۔قرآن کے اس اعجاز کی مثال ہمیں قیام پاکستان سے پہلے کے اس واقعہ سے بھی ملتی ہے کہ ایک مرتبہ عطااللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ علی گڑھ کے کسی جلسہ میں تقریر کرنے تشریف لے گئے۔ کالج کے طلبہ نے تقریر سننے سے انکار کر دیا، ایسا ہنگامہ کیا کہ تقریر کرنا محال ہو گیا۔ شاہ جیؒ نے دیکھا کہ ان طلبہ پر کوئی نصیحت کارگر نہیں ہوتی تو فرمایا’’اچھا بیٹا قرآن مجید کا ایک رکوع پڑھ دیتا ہوں اور جلسہ تمہارے احترام میں

ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘طلبہ خاموش بیٹھ گئے۔ شاہ جی ؒ نے انتہائی دل سوزی سے نیم خورد آواز میں قرآن مجید پڑھنا شروع کیا۔ چشم و گوش اور درودیوار جھوم گئے۔ تلاوت ختم ہوئی تو فرمایا’’بیٹا کیا خیال ہے اس کا ترجمہ بھی کروں؟‘‘آواز آئی’’ضرور ترجمہ بھی کر دیجئے۔‘‘اب ترجمہ شروع ہوا ، پھر ترجمے کے بعد تفسیر و تشریح کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ شاہ جیؒ نےتقریر ختم کی، طلبہ نے شور مچایا’’شاہ جی!خدا کیلئے کچھ اور بیان کیجئے۔‘‘فرمایا’’پھر کبھی آئوں گا تو تقریر سنائوں گا۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…