ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے لیبر قانون میں اہم تبدیلیاں

datetime 13  اگست‬‮  2024 |

دبئی(این این آئی)متحدہ عرب امارات نے اپنے لیبر قوانین میں کچھ بڑی تبدیلیاں کی ہیں ان تبدیلیوں کا مقصد ملازمت کے قوانین کو مزید بہتر بنا نا ، لیبر مارکیٹ کو زیادہ بہتر اور مسابقت سے بھرپور بنا نا ، ملازمت کے تعلقات کو منظم اور سب کے حقوق اور فرائض کو واضح کرنا اور ہر کسی کو قانون کے تحت تحفظ فراہم کرنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نئے قوانین کے تحت اگر کوئی آجر بغیر اجازت کے کسی کو ملازمت دیتا ہے، کسی کو نوکری کا جھانسہ دے کر ملک لاتا ہے اور پھر نوکری نہیں دیتا، ورک پرمٹ کا غلط استعمال کرتا ہے یا مزدوروں کے حقوق ادا کیے بغیر اپنے کاروبار کو بند کر دیتا ہے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد ہوگا۔

یہ جرمانہ کم از کم ایک لاکھ درہم اور زیادہ سے زیادہ دس لاکھ درہم تک ہو سکتا ہے۔نئے قوانین کے مطابق اگر کوئی آجر کسی نابالغ کو ملازمت دیتا ہے یا کسی نابالغ کے سرپرست اسے قانون کی خلاف ورزی میں کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو ان پر بھی یہی جرمانہ ہوگا۔ جعلی بھرتی کرنے پر، بشمول جعلی ایمریٹائزیشن پر بھی اب سزا ہوگی۔ ایسے آجروں پر ایک لاکھ سے دس لاکھ درہم تک جرمانہ عائد ہوگا۔ اگر ایک سے زیادہ لوگ اس جعلی بھرتی میں شامل ہوں تو جرمانے کی رقم بھی بڑھ جائے گی۔ لیبر کے جھگڑوں کی صورت میں اگر وزارتِ انسانی وسائل کے فیصلے سے اتفاق نہ ہو تو اب معاملہ اپیل کورٹ میں نہیں بلکہ براہ راست عدالت میں جائے گا۔

ملازمت ختم ہونے کے دو سال کے بعد تک کے دعووں پر بھی عدالت غور نہیں کرے گی۔ جعلی ملازمت یا جعلی اماراتی بنانے کے خلاف صرف وزیرِ انسانی وسائل یا ان کے نمائندے کی درخواست پر ہی کارروائی ہو سکتی ہے۔وزارت کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ آجر کی درخواست پر عدالتی فیصلے سے پہلے بھی ایسے معاملات کو طے کر سکتی ہے لیکن اس کے لیے آجر کو کم از کم آدھا جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور حکومت کو جعلی ملازمین سے حاصل ہونے والی تمام مراعات واپس کرنی ہوں گی۔ اپیل کی عدالتیں اب تمام لیبر تنازعات کو براہ راست فرسٹ انسٹنس کورٹ میں بھیجیں گی۔ یہ نئے قانون کے نفاذ کی تاریخ سے شروع ہوگا۔ البتہ جن مقدمات کا فیصلہ ہو چکا ہے یا فیصلے کے لیے محفوظ ہیں وہ اس سے مستثنی ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…