منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے لیبر قانون میں اہم تبدیلیاں

datetime 13  اگست‬‮  2024 |

دبئی(این این آئی)متحدہ عرب امارات نے اپنے لیبر قوانین میں کچھ بڑی تبدیلیاں کی ہیں ان تبدیلیوں کا مقصد ملازمت کے قوانین کو مزید بہتر بنا نا ، لیبر مارکیٹ کو زیادہ بہتر اور مسابقت سے بھرپور بنا نا ، ملازمت کے تعلقات کو منظم اور سب کے حقوق اور فرائض کو واضح کرنا اور ہر کسی کو قانون کے تحت تحفظ فراہم کرنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نئے قوانین کے تحت اگر کوئی آجر بغیر اجازت کے کسی کو ملازمت دیتا ہے، کسی کو نوکری کا جھانسہ دے کر ملک لاتا ہے اور پھر نوکری نہیں دیتا، ورک پرمٹ کا غلط استعمال کرتا ہے یا مزدوروں کے حقوق ادا کیے بغیر اپنے کاروبار کو بند کر دیتا ہے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد ہوگا۔

یہ جرمانہ کم از کم ایک لاکھ درہم اور زیادہ سے زیادہ دس لاکھ درہم تک ہو سکتا ہے۔نئے قوانین کے مطابق اگر کوئی آجر کسی نابالغ کو ملازمت دیتا ہے یا کسی نابالغ کے سرپرست اسے قانون کی خلاف ورزی میں کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو ان پر بھی یہی جرمانہ ہوگا۔ جعلی بھرتی کرنے پر، بشمول جعلی ایمریٹائزیشن پر بھی اب سزا ہوگی۔ ایسے آجروں پر ایک لاکھ سے دس لاکھ درہم تک جرمانہ عائد ہوگا۔ اگر ایک سے زیادہ لوگ اس جعلی بھرتی میں شامل ہوں تو جرمانے کی رقم بھی بڑھ جائے گی۔ لیبر کے جھگڑوں کی صورت میں اگر وزارتِ انسانی وسائل کے فیصلے سے اتفاق نہ ہو تو اب معاملہ اپیل کورٹ میں نہیں بلکہ براہ راست عدالت میں جائے گا۔

ملازمت ختم ہونے کے دو سال کے بعد تک کے دعووں پر بھی عدالت غور نہیں کرے گی۔ جعلی ملازمت یا جعلی اماراتی بنانے کے خلاف صرف وزیرِ انسانی وسائل یا ان کے نمائندے کی درخواست پر ہی کارروائی ہو سکتی ہے۔وزارت کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ آجر کی درخواست پر عدالتی فیصلے سے پہلے بھی ایسے معاملات کو طے کر سکتی ہے لیکن اس کے لیے آجر کو کم از کم آدھا جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور حکومت کو جعلی ملازمین سے حاصل ہونے والی تمام مراعات واپس کرنی ہوں گی۔ اپیل کی عدالتیں اب تمام لیبر تنازعات کو براہ راست فرسٹ انسٹنس کورٹ میں بھیجیں گی۔ یہ نئے قانون کے نفاذ کی تاریخ سے شروع ہوگا۔ البتہ جن مقدمات کا فیصلہ ہو چکا ہے یا فیصلے کے لیے محفوظ ہیں وہ اس سے مستثنی ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…