منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

پرانے پنکھوں کو انرجی سیونگ پنکھوں میں سرکاری اسکیم کے تحت کیسے بدلیں؟

datetime 28  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے ملک میں پرانے پنکھوں کو آئندہ دس برسوں میں توانائی کی بچت کرنے والے جدید پنکھوں سے تبدیل کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس پر 350 ارب روپے سے زائد کی لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (NEECA) نے اس منصوبے کا ڈیزائن تیار کیا ہے، جس میں دیہی علاقوں کے تقریباً 5 کروڑ اور شہری علاقوں کے 3 کروڑ 80 لاکھ افراد کو شامل کیا گیا ہے۔وزیرِاعظم کے “پنکھے کی تبدیلی پروگرام” کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے جبکہ وزارتِ خزانہ نے اس کے لیے ابتدائی طور پر 2 ارب روپے تکنیکی سپورٹ گرانٹ کے طور پر مختص کیے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں ملک کی زیادہ سے زیادہ بجلی کی طلب میں 5 ہزار میگاواٹ تک کمی متوقع ہے، جو بالخصوص گرمیوں کے موسم میں قومی گرڈ پر دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔صارفین کو آسان اقساط کی سہولت فراہم کی جائے گی، اور ان قسطوں کی رقم ان کے بجلی کے بلوں میں شامل کر کے وصول کی جائے گی۔ یہ فنانسنگ ماڈل اسلامی اصولوں کے مطابق بنایا گیا ہے جبکہ بینکوں کا انتخاب صارفین کی بلوں کی بروقت ادائیگی کی تاریخ کی بنیاد پر ہوگا۔یہ اسکیم اختیاری ہے اور درخواستیں نیکا کے آن لائن پورٹل پر دی جا سکیں گی۔ منصوبے کے تحت پنکھے بنانے والی کمپنیاں تنصیب، پرانے پنکھوں کی محفوظ تلفی اور بعد از فروخت سہولیات کی ذمہ دار ہوں گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گرمیوں کے دوران بجلی کی مجموعی طلب 17 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر جاتی ہے، جس میں پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کا بڑا حصہ ہے، جبکہ صرف پنکھے ہی تقریباً 12 ہزار میگاواٹ استعمال کرتے ہیں۔ اس پروگرام سے توانائی کی نمایاں بچت متوقع ہے اور بجلی کے بحران میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…