اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سائفر سے متعلق تنازع اور اس دوران کابینہ کے اندر پیدا ہونے والے اختلافات کے بارے میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے
اپنی کتاب میں تفصیلی مشاہدات بیان کیے ہیں اور اس وقت کے حالات کا آنکھوں دیکھا حال قلم بند کیا ہے۔مراد سعید نے لکھا کہ ایک موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ انہیں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ انہیں گمراہ کر رہے ہیں، اس لیے اب جو بھی فیصلہ کیا جائے اس پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس دوران شفقت محمود نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے توہینِ عدالت کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔اسی دوران وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے موقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 6 یا توہینِ عدالت کا اطلاق وزیراعظم یا کابینہ پر کیسے ہوسکتا ہے، جب اسپیکر کی رولنگ پہلے سے موجود ہے جس میں سائفر کی تحقیقات کا کہا گیا ہے۔ ان کے بقول کابینہ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ سائفر کو ڈی کلاسیفائی کرے، اور یہ کام کیا بھی جاچکا ہے۔کتاب کے مطابق اس موقع پر اسد عمر نے کہا کہ اگرچہ تمام نکات درست ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں معاملہ اسی طرح نمٹا دینا بہتر ہوگا کیونکہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔
ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے فواد چوہدری نے بھی یہی مؤقف اپنایا۔مراد سعید کے مطابق انہوں نے فواد چوہدری سے سوال کیا کہ بطور وزیر قانون انہوں نے اسمبلی میں جو مؤقف اختیار کیا تھا اس کا کیا ہوگا۔ اس پر فواد چوہدری کے لہجے میں ناراضی محسوس ہوئی۔ مراد سعید نے کہا کہ اگر ہم میں ہمت نہیں تو پھر واضح طور پر مان لینا چاہیے۔انہوں نے مزید لکھا کہ اسی دوران شہباز گل بھی کمرے میں آگئے اور انہوں نے مراد سعید کی بات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنا چاہیے۔ تاہم ان کے اس بیان پر ماحول مزید کشیدہ ہوگیا اور اسد عمر نے شہباز گل کو سخت لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کون ہوتے ہیں کابینہ کو مشورے دینے والے۔مراد سعید کے مطابق اس وقت یہ تاثر واضح تھا کہ کابینہ کے بعض سینئر ارکان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اسی دوران عمران خان نے ہاتھ کے اشارے سے اسد عمر کو خاموش رہنے کا کہا اور گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مراد سعید کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر کسی نے کہا کہ دباؤ بہت زیادہ ہے اور مخالف فریق سخت اقدامات بھی کرسکتا ہے،
حتیٰ کہ آرٹیکل 6 لگانے کی بات بھی سامنے آئی۔ اس پر عمران خان نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا کہ اگر سب کی یہی رائے ہے تو وہ اسے تسلیم کر لیتے ہیں۔مراد سعید لکھتے ہیں کہ وہ اس موقع پر کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن اس سے پہلے ہی عمران خان نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ “مراد، تم دیکھ نہیں رہے کہ میں اس وقت اکیلا ہوں۔”
کس کس کو یہ واقعہ یاد ہے جب اسد عمر اور فواد چوہدری پریس کانفرنس میں بول رہے تھے بعد میں جب شہباز گل بولنے لگے تو یہ دونوں ان کو اگنور کر کے چلے گیے
اس وقت تو بات سمجھ نہیں آئ تھی لیکن آج مراد سعید کی کتاب کے اس صفحے نے سب کچھ سمجھادیا۔ @SHABAZGIL pic.twitter.com/ZBLbkpk2uS— Sarah Naeem Khan (@sarah_naeem01) March 3, 2026



















































