جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں درست پیشگوئیاں کرنے والے پروفیسر ژینگ نے ایران ، امریکہ اور اسرائیل جنگ کا نتیجہ بھی بتا دیا

datetime 5  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پروفیسر ژینگ نے سنہ 2024 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق تین اہم پیش گوئیاں کی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ صدارتی انتخاب جیت جائیں گے، ایران کے خلاف فوجی کارروائی کریں گے اور بالآخر اس جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ ان میں سے پہلی دو پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں جبکہ تیسری کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔ ایک غیر ملکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پروفیسر ژینگ نے کہا کہ ان کے تجزیے کے مطابق اس تنازع میں ایران کو امریکہ پر کئی اسٹریٹجک برتریاں حاصل ہیں اور موجودہ صورتحال ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ان کے مطابق ایران گزشتہ دو دہائیوں سے اس قسم کے تصادم کی تیاری کر رہا تھا۔ ایرانی نظریے کے مطابق یہ لڑائی “بڑے شیطان” کے خلاف جنگ تصور کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل اور امریکہ کی عسکری حکمت عملی اور حملہ آور صلاحیتوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

اس کے بعد ایران کو آئندہ ممکنہ حملے کی تیاری کے لیے تقریباً آٹھ ماہ کا وقت ملا، جس میں اس نے امریکی طرزِ فکر اور حکمت عملی کو بہتر طور پر سمجھ لیا اور اب اس کے پاس امریکہ کو کمزور کرنے کی جامع حکمت عملی موجود ہے۔پروفیسر ژینگ کا کہنا تھا کہ ایران دراصل اس وقت عالمی معاشی نظام کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک ایران کے ممکنہ اہداف میں شامل ہیں۔ ایران نہ صرف امریکی فوجی اڈوں بلکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے اقدامات سے عالمی تجارت کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایران خلیجی ممالک کے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو بھی ہدف بنا سکتا ہے، کیونکہ ان ریاستوں کے پاس تازہ پانی کے قدرتی ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں اور تقریباً 60 فیصد پانی انہی پلانٹس سے حاصل کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک نسبتاً سستا ڈرون ریاض کے کسی پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو تباہ کر دے تو ایک کروڑ آبادی والا شہر چند ہفتوں میں پانی کے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک اپنی خوراک کا تقریباً 90 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے راستے درآمد کرتے ہیں، اس لیے اگر یہ راستہ متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات براہ راست ان ممالک کی بقا پر پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی حکمت عملی دراصل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر جیسے ممالک پر دباؤ ڈالنا ہے کیونکہ یہ ریاستیں عالمی معیشت، خصوصاً امریکی معاشی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ خلیجی ممالک تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ امریکی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کی صورت میں واپس امریکہ منتقل کرتے ہیں۔پروفیسر ژینگ نے کہا کہ موجودہ دور میں امریکی معیشت کا بڑا انحصار مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز میں ہونے والی سرمایہ کاری پر ہے اور اس سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ خلیجی ریاستوں سے آتا ہے۔ اگر یہ ممالک تیل کی فروخت یا ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری جاری نہ رکھ سکے تو امریکی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے اور AI سے جڑا معاشی ببل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر پر حملے کے بعد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے وہاں سرمایہ کاری کے حوالے سے دوبارہ غور شروع کر دیا ہے۔انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اس جنگ میں ہتھیاروں اور میزائلوں کی دستیابی ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

ان کے بقول امریکہ کوشش کر رہا ہے کہ ایران کے خلاف اپنے عسکری اہداف اس وقت تک حاصل کر لے جب تک اس کے دفاعی میزائلوں کے ذخائر ختم نہیں ہو جاتے۔ مثال کے طور پر ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکنے کے لیے 11 انٹرسیپٹر میزائل داغے گئے لیکن وہ اسے روکنے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایرانی میزائل کی لاگت تقریباً دس لاکھ ڈالر کے قریب ہو سکتی ہے جبکہ اسے روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی قیمت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔پروفیسر ژینگ کے مطابق اگر خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات، اس معاشی نظام سے الگ ہو جاتے ہیں تو پیٹرو ڈالر کا موجودہ ڈھانچہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ پر ان ممالک کے تحفظ کی ذمہ داری مزید بڑھ جائے گی۔ ان کے بقول خلیجی ریاستیں امریکہ سے یہ مطالبہ بھی کر سکتی ہیں کہ یا تو ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لیے بھاری مالی معاوضہ دیا جائے جس کا تخمینہ تقریباً 520 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے، یا پھر ایران کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے زمینی فوجی کارروائی کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کے خلاف زمینی فوج بھیجنے کے حق میں امریکی عوام کی بڑی سیاسی حمایت موجود نہیں، تاہم ماضی میں بھی ایسے فیصلوں کی ابتدا میں عوامی مخالفت دیکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایران پر ابتدائی حملوں کے وقت بھی تقریباً 78 فیصد امریکی عوام اس اقدام کے مخالف تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…