اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق وفاقی وزیر اور رہنما تحریک انصاف مراد سعید نے اپنی کتاب میں سینیٹر فیصل واوڈا سے متعلق
ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کئی اہم دعوے کیے ہیں۔ کتاب کے مطابق ایک موقع پر وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد ایسا واقعہ پیش آیا جس نے وہاں موجود افراد کو حیران کر دیا۔ مراد سعید نے یہ بھی لکھا کہ اس ملاقات کے ایجنڈے سے اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان بھی مکمل طور پر آگاہ نہیں تھے۔کتاب کے صفحہ نمبر 146 پر مراد سعید بیان کرتے ہیں کہ ایک میٹنگ کے اختتام پر جنرل قمر جاوید باجوہ غصے کی حالت میں کمرے سے باہر نکلے اور دیگر شرکاء بھی ان کے پیچھے باہر آگئے۔ باہر سینیٹر فیصل واوڈا موجود تھے، جو اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن تھے۔ مراد سعید کے مطابق اس سے کچھ دن پہلے فیصل واوڈا نے ایک ٹی وی پروگرام میں میز پر بوٹ رکھ کر ایک علامتی اقدام کیا تھا جس پر میڈیا اور سیاسی حلقوں میں کافی بحث ہوئی تھی۔مراد سعید کے بقول جنرل باجوہ پہلے ہی ناراض دکھائی دے رہے تھے۔
جیسے ہی فیصل واوڈا ان کی طرف خوشامدانہ انداز میں بڑھے تو جنرل باجوہ نے انہیں سخت لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ٹی وی پروگرام میں بوٹ میز پر رکھنے کا مقصد کیا تھا۔ اس موقع پر مراد سعید کے مطابق فیصل واوڈا ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوگئے اور خاموشی سے بات سنتے رہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ کچھ دیر بعد فیصل واوڈا نے جنرل فیض حمید کی طرف مدد کے لیے دیکھا، جس پر جنرل فیض آگے بڑھے اور جنرل باجوہ سے کہا کہ معاملہ چھوڑ دیں اور انہیں معاف کر دیں۔ اس کے بعد فیصل واوڈا نے بھی معذرت کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ مراد سعید کے مطابق یہ سارا واقعہ وزیراعظم آفس کے عملے اور اجلاس سے باہر آنے والے وفاقی وزراء کے سامنے پیش آیا، جس پر سب لوگ ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
مراد سعید لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد وہ الگ ہو کر وزیراعظم عمران خان کے دفتر گئے جہاں وہ اکیلے موجود تھے۔ انہوں نے عمران خان سے پوچھا کہ کیا انہیں اس اجلاس کے اصل ایجنڈے کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔ مراد سعید کے مطابق عمران خان نے جواب دیا کہ انہیں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ اہم قومی معاملات پر بریفنگ دینا ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کرنی ہے۔مراد سعید کے مطابق عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ اب انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ یہ ملاقات پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت منعقد کی گئی تھی۔ ان کے بقول جنرل باجوہ کو یقین دلایا گیا تھا کہ کابینہ کے چند اہم اور سینئر وزراء نیب ترامیم کی حمایت کریں گے اور وزیراعظم پر پنجاب کے وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔



















































