اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارتی ڈاکٹر کی ایک تحریر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا بھارتی شہریوں کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھا رہی ہے اور مختلف ممالک میں ان کے خلاف مخالفت بڑھ رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق، ریڈایٹ پر شائع ہونے والی اس پوسٹ نے بھارت اور بیرون ملک مقیم بھارتی برادری میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ متعدد افراد کا خیال ہے کہ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر بھارتیوں کے لیے رویے میں سختی اور ردعمل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ڈاکٹر نے اپنی پوسٹ میں عنوان دیا: ’’دنیا ہمیں مزید نہیں چاہتی: بھارتی ہر جگہ مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں‘‘۔
اس میں کہا گیا کہ سخت ویزا قوانین اور حالیہ واقعات، جیسے آئرلینڈ میں نسلی فسادات کے الزامات، اس بڑھتی ہوئی ناراضگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ بھارتیوں کو چاہیے کہ وہ بیرون ملک نقل مکانی کی خواہش پر ازسرِ نو غور کریں اور اپنے ہی ملک میں محفوظ اور مستحکم زندگی کی طرف توجہ دیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اپنے رویوں نے نئی نسل کے لیے بیرون ملک رہنے کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔‘‘مزید برآں، ڈاکٹر نے خبردار کیا کہ ’’ممکن ہے آئندہ چار سے پانچ سالوں میں بیشتر ممالک بھارتیوں کے لیے اپنے دروازے مکمل طور پر بند کر دیں۔
‘‘پوسٹ میں کینیڈا میں سخت ویزا پالیسیوں، دیگر ممالک میں بڑھتی نسل پرستی اور آئرلینڈ میں حالیہ بدامنی کی مثالیں بھی دی گئیں، یہ کہتے ہوئے کہ حتیٰ کہ وہاں کے مقامی لوگ جو مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں ’’اب صبر کھو رہے ہیں۔‘‘