جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

یوکرین معاملے پر اقوامِ متحدہ میں بحث، پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

datetime 1  مارچ‬‮  2022 |

نیویارک (این این آئی)پاکستان نے یوکرین بحران پر تبادلہ خیال کے لیے طلب کیے گئے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سفارتی ذرائع نے بتایا کہ ’پاکستان نے اس مسئلے پر کسی کی سائیڈ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، اسلام آباد ایک پْرامن اور مذاکراتی تصفیے کی حمایت کرتا ہے۔ اس ہنگامی اجلاس سے 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے خطاب کیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا امریکا کی پیش کردہ قرار داد کی حمایت کی جائے، جس میں روس سے فوری طور پر یوکرین سے فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اقوامِ متحدہ میں یوکرین کے مندوب سرگی کیسلیٹسیا نے عالمی ادارے کو خبردار کیا کہ اگر یوکرین نہیں بچا تو اقوامِ متحدہ بھی نہیں بچے گی۔پولینڈ کے سفیر نے اجلاس میں بتایا کہ پولینڈ میں پناہ لینے والوں میں پاکستانی شہری اور طلبہ بھی شامل ہیں جنہیں پولش حکومت پناہ فراہم کررہی ہے۔خیال رہے کہ قرارداد برائے ’امن کے لیے اتحاد‘ کے نام سے معروف شق کے تحت 1950 سے اب تک اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 10 ہنگامی اجلاس ہوئے ہیں۔یہ قرار دار جنرل اسمبلی کو اس وقت اہم معاملات پر غور کا اختیاردیتی ہے جب 5 مستقل اراکین میں اختلاف کے سبب سلامتی کونسل کام نہ کرسکے۔جنرل اسمبلی کے مباحثے کو عالمی ادارے کا دوسرا بہترین آپشن سمجھاجاتا ہے کیوں کہ اس کی قرادادیں سلامتی کونسل کی طرح ’پابند‘ نہیں ہوتی۔امریکا جس نے مباحثے کا آغاز کیا ہے، اس نے 25 فروری کو سلامتی کونسل سے رجوع کر کے ایک پابند قرار داد کی درخواست کی تھی لیکن روس نے اس کوشش کو ویٹو کردیا۔جنرل اسمبلی میں مباحثے کے آغاز میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹی جنرل انتونیو گوتریس نے آگاہ کیا کہ ایسے میں کہ جب روسی فضائی حملے یوکرینی افواج کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کے پاس اس بات کی ’مصدقہ اطلاعات‘ تھیں کہ غیر فوجی اہداف کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ ’بس بہت ہوگیا، بڑھتا ہوا تشدد باکل ناقابل قبول ہے، فوجیوں کو ان کی بیرکس اور رہنماؤں کو امن کی جانب جانا چاہیے۔انہوں نے یوکرین کی تسلیم شدہ سرحد کے اندر اس کی کی ریاستی سلامتی، خود مختاری اور آزادی کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔جنرل اسمبلی کے صدر عبداللہ شاہد نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ’جیسے ہم یہاں اجلاس کررہے ہیں، دونوں اطراف کے مذاکرات بیلاروس میں بات چیت کتتہے ہیں تا کہ گزشتہ ہفتے شروع ہونے والا بحران ختم ہو۔حالانکہ بھارت اور چین نے 25 فروری کو سلامتی کونسل میں ووٹ دینے سیگریز کیا لیکن انہوں نے پیر کے اجلاس مین شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…