جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

جس طرح لوگ ایئرپورٹ کی طرف بھاگ رہے ہیں، یہ بڑی بدقسمتی ہے، طالبان

datetime 23  اگست‬‮  2021 |

کابل(این این اائی)طالبان کے کلچرل کمیشن کے رہنما عبدالقاہر بلخی نے کہاہے کہ ہم نے سب کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے لیکن لوگوں کی بڑی تعداد ایئرپورٹ کی طرف بھاگ رہی ہے، جو بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔عرب میڈیاکوایک خصوصی انٹرویو میں طالبان رہنما ء نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، بالکل یہ ایک مخلوط نظام ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم سیکیورٹی کے

انتظامات کے بارے میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور ان سے ورکنگ ریلیشن شپ میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چیک پوسٹوں کے باہر کنٹرول ہمارا ہے اور اندر کی سیکیورٹی امریکی فورسز کے ہاتھ میں ہے اور ایک دوسرے سے مسلسل رابطہ کرتے ہیں۔طالبان رہنما نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ اس وقت لوگ جس طرح ایئرپورٹ کی طرف بھاگ رہے ہیں، میرے خیال یہ مناسب نہیں کیونکہ ہم نے ہر کسی کے لیے معافی کا اعلان کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو خوف اور ڈر بیٹھ چکا ہے وہ غلط ہے، پیش رفت تیزی سے ہورہی ہے، جس کی وجہ سے تمام لوگ حیران ہیں۔عبدالقاہر بلخی کا کہنا تھا کہ جب ہم کابل میں داخل ہوئے تو یہ سب پہلے سے منصوبہ نہیں تھا، کیونکہ ہم پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ ہم کابل میں داخل ہونے سے پہلے سیاسی حل نکالنا، مشترکہ اور مخلوط حکومت بنانا چاہتے ہیں، لیکن جو کچھ ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ سیکیورٹی فورسز چلی گئیں اور اپنی جگہ خالی کردیانہوں نے کہا کہ اسی لیے ہماری فورسز کو کہا گیا کہ داخل ہوں اور سیکیورٹی اپنے ہاتھ میں لیں ۔ان کا کہنا تھا کہ بین الافغان مذاکرات کا نکتہ یہی ہے کہ ہم ایک معاہدے پر متفق ہوں تاکہ جو حقوق واقعی میں لازمی ہیں۔افغانستان میں طرز حکومت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ شرعی قانون سے ہر کوئی واقف ہے اور خواتین کے حقوق کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف خواتین اور مردوں کے حقوق بلکہ بچوں کے حقوق بھی واضح ہیں، اس وقت حالات یہ ہیں کہ جہاں ہم پرامید ہیں کہ مشاورت کے دوران ان کے کیا حقوق ہیں اس کی وضاحت ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ اولین ترجیح یہی ہے کہ ہمارے درمیان نظم و ضبط قائم ہو اور دوسروں پر قوانین مسلط نہ کیے جائیں لیکن پہلے خود پر نافذ کر کے معاشرے کے دوسروں طبقوں کے لیے مثال بنائیں گے تاکہ اس پر عمل ہو۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہم اور ہمارے اراکین ہوں گے اگر وہ کسی ایسے کام میں ملوث ہوئے تو وہ پہلے لوگ ہوں گے جنہیں سزا دی جائے گی۔دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ لوگ ہمیں دہشت گرد مانتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ایک اصطلاح تھی، جس کو امریکا نے متعارف کروایا تھا اور جو لوگ اس پر پورا نہیں اترتے تھے انہیں بھی دہشت گرد کہا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…