جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان سے امریکی انخلا کا فیصلہ درست تھا، اب نہیں تو کب نکلتے؟جوبائیڈن

datetime 23  اگست‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر جو بائیڈن نے امید ظاہر کی ہے کہ 31 اگست تک افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا جائے گا۔تاریخ بتائے کہ ان کا افغانستان سے نکلنے کا فیصلہ درست تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق وائٹ ہاوس سے ٹیلی ویژن خطاب کرتے ہوتے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ

امید ہے 31 اگست تک افغانستان سے انخلا مکمل کریں گے اور ڈیڈ لائن بڑھانی نہیں پڑے گی اگر ڈیڈ لائن بڑھانے سے متعلق غیر ملکی رہنماں کی درخواست ملی تو دیکھیں گے کہ کیا کرسکتے ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 36 گھنٹے سے کم عرصے میں 11 ہزار افراد کو افغانستان سے نکالنے میں کامیاب ہوئے اور 14 اگست سے اب تک 28 ہزار افراد کا انخلا کروا چکے ہیں جبکہ امریکی شہریوں کے علاوہ اتحادی ممالک کے شہریوں اور افغان ساتھیوں کی بھی مدد جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قطر، جرمنی اور کویت سمیت 2 درجن سے زائد ممالک اس مشن میں ساتھ دے رہے ہیں ۔امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بار پھر کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلا کا فیصلہ درست تھا، اب بھی نہیں تو کب انخلا کرتے؟ کیا مزید 10 برس بعد کرتے؟ کابل میں سکیورٹی ماحول تیزی سے تبدیل ہوتا ہے، حالات بگڑ سکتے تھے، 20 برس سے جاری جنگ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔حالیہ دنوں میں صدر بائیڈن پر امریکی انخلا کی حکمت عملی کے حوالے تنقید کی جا رہی ہے تاہم ملکی سطح پر امریکہ کے افغانستان سے نکلنے کو مثبت طور پر دیکھا جا رہا ہے۔تاہم انھوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کو نام نہاد دولتِ اسلامیہ خراسان کی جانب سے حملوں کا خطرہ لاحق ہے۔انھوں نے کہا کہ افراتفری کے عالم میں کابل ایئر پورٹ سے ایک لوگوں کی ایک حیران کن تعداد کو نکالا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوائے اڈے کے باہر امریکی افواج نے اپنا گھیرا بڑھا لیا ہے تاہم وہاں موجود عام شہریوں اور فوجی اہلکار، دونوں کے لیے دولت اسلامیہ کی جانب سے حملے کا خطرہ برقرار ہے۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہ امید کر رہے ہیں کہ انخلا کا کام ان کی 31 اگست کی مقررہ ڈیڈ لائن تک مکمل ہو جائے گا تاہم اگر ضرورت پڑی تو حکام یہ تاریخ آگے بڑھانے کے لیے بھی تیار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…