جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

بائیڈن انتظامیہ میں پاک امریکہ فوجی تعلقات کی تجدید کا امکان نامزد امریکی وزیردفاع کا اہم بیان سامنے آگیا

datetime 21  جنوری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن(این این آئی ) امریکا کے نامزد دفاعی سربراہ جنرل لائیڈ جے آسٹن نے کہا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ پاکستان کو افغانستان کے امن عمل میں ایک ضروری ساتھی کے طور پر دیکھتی ہے اور علاقائی عناصرکو امن عمل خراب کرنے سے روکنے کے لیے کام بھی کرے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل لائیڈ جے آسٹن

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ ہیں اور اگر امریکی سینٹ منظور کردیتی ہے تو وہ نئے سیکریٹری دفاع ہوں گے جبکہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سابق عہدیدار ٹنی بلنکین امریکا کے نئے سیکریٹری اسٹیٹ ہوں گے۔سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے ایک سوال کا جوب دیتے ہوئے جنرل لائیڈ آسٹن نے کہا کہ افغانستان میں کسی بھی امن عمل کے لیے پاکستان ایک انتہائی ضروری ساتھی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں افغان امن عمل کو بگاڑنے کے لیے کام کرنے والے علاقائی عناصر کو روکتے ہوئے ایک علاقائی اپروچ کی حوصلہ افزائی کروں گا جو پڑوسی ممالک مثلا پاکستان سے حمایت حاص کرے۔جنرل لائیڈ آسٹن سے سوال کیا گیا کہ بحیثیت سیکریٹری دفاع وہ امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کیا تبدیلیاں تجویز کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ میں ہمارے مشترکہ مفادات پر توجہ دوں گا جس میں بین الاقوامی فوجی تعلیم و تربیت فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کے فوجی رہنماں کی تربیت بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں ہونے والے کسی بھی تصفیے میں اہم کردار ادا کرے گا،

ہمیں القاعدہ اور داعش خراسان کو شکست دینے اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔نامزد سیکریٹری دفاع سے سوال کیا گیا کہ چونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ستمبر 2018 میں پاکستان کو سیکیورٹی امداد روک دی تھی تو کیا انہوں نے امریکا کے ساتھ

پاکستان کے تعاون میں کوئی تبدیلی محسوس کی ہے؟جس پر جنرل لائیڈ آسٹن نے جواب دیا کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان نے افغان امن عمل کی حمایت میں امریکی درخواستوں پر عمل کرنے کے لیے تعمیری اقدامات اٹھائے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت مخالف گروہوں مثلا لشکرِ

طیبہ اور جیش محمد کے خلاف بھی اقدامات اٹھائے حالانکہ ان کی پیش رفت ابھی نامکمل ہے۔جنرل لائیڈ آسٹن نے اعتراف کیا کہ ہوسکتا ہے سیکیورٹی امداد کی معطلی کے علاوہ بھی کئی پہلو پاکستان کے تعاون پر اثر انداز ہوئے ہوں جس میں افغانستان مذاکرات اور پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی خطرناک

کشیدگی شامل ہے۔امریکی جنرل سے پوچھا گیا کہ وہ پاکستان پر اثر انداز ہونے کے لیے کیا حربے اور آپشنز استعمال کرں گے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان پر دبا ئوڈالوں گا کہ وہ اپنی سرزمین کو عسکریت پسندوں کی پناہ گاہ اور پر تشدد

انتہا پسند تنظیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے، پاکستان کی فوج کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے سے امریکا اور پاکستان کے کلیدی امور پر تعاون کرنے کی راہیں کھلیں گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…