لداخ کے بعد چین نے بھارتی ریاست ارون چل پردیش پر قبضہ کرلیا

  منگل‬‮ 19 جنوری‬‮ 2021  |  15:40

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چینی دعوے اور سٹیلائٹ تصاویر کے مطابق گزشتہ ایک برس میں چین نے سرحد کے پاس ایک ایسے متنازعہ علاقے میں سو گھر تعمیر کر لیے ہیں جو کہ بھارت کی ریاست ارون چل پردیش کا حصہ ہیں۔یہ علاقہ متنازع ہے اور اس پر دہلی اور بیجنگ دونوں کےمالکانہ حقوق کی جنگ جاری ہے،مگر گزشتہ ایک سال میں انڈیااور چین کے درمیان لداخ کے معاملے کو لے کر چھوٹے پیمانے پر جس قسم کی مدبھیڑ ہوئی ہے اس کے نتیجے میں چین نے نہ صرف لداخ پر اپنے فوجی مورچے قائم کر لیے ہیں بلکہ ارون چل پردیش


کے اس علاقے میں بھی تعمیرات کر لی ہیں جو بیجنگ کے مطابق ان کا اپنا علاقہ ہے اور بھارت اس پر قابض ہوا ہے۔سٹیلائٹ تصاویر کو غور سے دیکھا جائے تو چین کی طرف سے تیار ہونے والے یہ سو گھر انڈیا کی طرف سے شو کیے گئے انٹرنیشنل بارڈر سے اڑھائی میل اندر ارون چل پردیش میں بنائے گئے ہیں۔جبکہ بھارت نے چین کی طرف سے اس قبضہ پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ایک سال پہلے کی اگر سٹیلائٹ تصاویر دیکھی جائیں تو یہ علاقہ بالکل خالی تھااور یہاں کسی قسم کا کوئی گھر تعمیر نہیں ہوا تھا مگر حالیہ بھارت چین کشیدگی کے نتیجے میں بھارت کی اس ریاست کے ایک حصہ پر چین قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیااور بھارت اس معاملے پرخاموش نظر آتا ہے۔یہ گائوں جو کہ چین کی طرف سے بسایا گیا ہے یہ دریائے ساری چو کے کنارے واقع ہے،اس علاقے سمیت لداخ کے معاملے پر بھی بھارت اور چین کے درمیان کافی عرصے سے لڑائی چلتی آ رہی تھی اور گزشتہ برس لداخ سمیت یہ گائوں بھی چین اپنے حصے میں کرنے میں کامیاب ہو گیااور انڈیا منہ دیکھتا رہ گیا تھا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎