انڈونیشیا میں شدید زلزلہ متعددعمارتیں تباہ، جانی نقصان

  جمعہ‬‮ 15 جنوری‬‮ 2021  |  11:25

جکارتہ( آن لائن )انڈونیشیا میں طاقت ور زلزلے سے 34افرادہلاک ہوگئے جبکہ درجنوں عمارتیں منہدم ہوگئیں،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطاق انڈونیشیا کے جزیرہ سلاویسی میں جمعہ کی علی الصبح زبردست زلزلہ آنے سے کم از کم 34 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ۔ ریکٹر اسکیل پر پر زلزلے کی شدت چھ اعشاریہ دو درج کی گئی۔زلزلے کا مرکز جزیرے کے ماجین شہر سے شمال مشرق میں چھ کلومیٹر دور اور زمین میں 10 کلو میٹر گہرائی میں تھا۔اس واقعے میں تقریبا چھ سو افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو سو کی حالت


نازک بتائی جا رہی ہے جبکہ دو ہزار سے بھی زائد افراد بے گھر ہوگئے ۔ملک کی نیشنل ڈیزاسٹر میٹیگیشن ایجنسی نے تصدیق کی کہ جزیرے پر ایک ہوٹل سمیت بہت سی عمارتیں زلزلے کے جھٹکوں سے گر کر پوری طرح تباہ ہوگئیں۔زلزلے کے جھٹکے محسوس کرنے کے بعد ہزاروں افراد گھبراکر اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔سوشل میڈیا پر اس حوالے سے متعدد ویڈیوز میں بہت سے لوگوں کو ملبے کے نیچے دبے ہوئے اور بہت سے دیگر کو جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ جزیرہ سلاویسی پر زلزلے سے کم از کم ساٹھ مکانات تباہ ہوگئے۔ مقامی صحافی سودریمان سیمویل نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ زلزلے سے حکومت کے دفاتر پر مشتمل ایک عمارت اور ایک تجارتی مرکز کو بھی کافی نقصان پہنچا ۔امدادی کارروائیوں میں مصروف اداروں نے جو تصاویر مہیا کی ہیں اس میں بظاہر ایک مقامی اسپتال کے پاس مہندم عمارت کا ملبہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی دیگر تصاویر میں امدادی کارکنوں کو ملبے کے نیچے پھنسی دو بہنوں سے حال چال پوچھتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر دستیاب ویڈیوز میں بعض لوگوں کو موٹر سائیکل پر سوار ہوکر اونچے اور محفوظ علاقوں کی طرف بھی جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ انڈونیشا کی ڈیزاسٹر ایجنسی کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دورن سلسلہ وار متعدد زلزلے کے جھٹکے آتے رہے جس سے تین مقامات پر زمین کھسکنے کے واقعات پیش آئے اور بہت سے علاقوں میں بجلی کی سپلائی منقطع ہو گئی۔


زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎