جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ملٹری ایکشن ایک ہی صورت میں روکیں گے اگر۔۔۔ آزربائیجان کے صدر نے آرمینیاکے سامنے بڑی شرط رکھ دی

datetime 5  اکتوبر‬‮  2020 |

باکو (این این آئی)آزربائیجان کے صدر الہام الیوف نے کہا ہے کہ انکا ملک ماضی میں بارہا آرمینیا پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ بتائیں یورپی یونین اور یورپی سیکیورٹی تعاون تنظیم نے آرمینیا کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر الہام الیوف نے باکو میں ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگورنو کارا باخ آزربائیجان کا ہے، ہم اسے واپس لیکر رہیں گے، ہماری صرف ایک شرط ہے کہ ہمارے علاقے آزاد کیے جائیں۔ صدر الہام نے کہا کہ آرمینیا اور کچھ یورپی رہنما ء اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ آرمینیا کویہ ماننا ہوگا کہ کاراباخ سے اس کاکوئی تعلق نہیں۔ آرمینیا کارا باخ سے نکلنے کا وقت طے کرے، اس کے بعد ہی ہم ملٹری ایکشن روکیں گے۔دریں اثنا آذربائیجان اور آرمینیا کے دستوں کے مابین نگورنو کاراباخ کے علیحدگی پسند خطے کے باعث شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ دوسرا بڑا آذری شہر گنجہ بھی آرمینیائی حملوں کی زد میں ہے جبکہ ترکی نے آذری شہری علاقوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دونوں حریف ہمسایہ ممالک کی فورسز کے مابین گزشتہ روز بھی شدید جھڑپیں ہوئیں، ان میں اطراف کو کافی زیادہ جانی نقصان ہوا۔

ان جھڑپوں کے دوران آذری دستوں کی طرف سے نگورنو کاراباخ کے مرکزی شہر سٹیپاناکیرٹ پر بھی نئے حملے کیے گئے۔ نگورنو کاراباخ کا یہ متنازعہ علاقہ آذربائیجان کا علیحدگی پسند خطہ ہے، جس نے ماضی میں اپنی خود مختاری کا یکطرفہ اعلان بھی کر دیا تھا

اور جس کا انتظام کئی برسوں سے آرمینیائی نسل کے علیحدگی پسندوں کے پاس ہے۔آذربائیجان میں باکو اور آرمینیا میں یریوان سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق چند سال کے وقفے کے بعد نگورنو کاراباخ پر قبضے کی جنگ کے دونوں فریقوں کے مابین چند روز قبل دوبارہ شروع

ہونے والی لڑائی میں اطراف کے فوجیوں، جنگجوں اور عام شہریوں سمیت اب تک تقریبا ڈھائی سو افراد مارے جا چکے ہیں۔اسی دوران آرمینیا نے بھی تصدیق کر دی کہ نگورنو کاراباخ میں آذری دستوں کے بڑے حملوں میں اب تک 51 علیحدگی پسند آرمینیائی جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

دوسری طرف اس علیحدگی پسند خطے کی آرمینیائی نسل کی انتظامیہ نے دعوی کیا کہ آذری دستے اب اس خطے کے صدر مقام سٹیپاناکیرٹ میں شہری اہداف کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔آذربائیجان کے دوسرے سب سے بڑے شہر گنجہ پر کیے جانے والے حملوں کے بعد آذری صدر الہام علییف

کے ایک مشیر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آرمینیا میں وہ تمام عسکری اہداف تباہ کر دیں جائیں گے، جہاں سے گنجہ پر راکٹ حملے کیے جا رہے ہیں۔ادھرانقرہ میں ملکی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ آرمینیائی دستوں نے آج دوسرے سب سے بڑے آذری شہر میں شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے جو حملے کیے ہیں، وہ انتہائی قابل مذمت ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…