جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

خدا مجھے مرنے نہیں دینا چاہتا 2 سال پہلے لاپتہ ہونیوالی خاتون سمندر سے زندہ مل گئی

datetime 1  اکتوبر‬‮  2020 |

بگوٹا (این این آئی) کولمبیا سے ایک حیران کن خبر آئی ہے جہاں ایک خاتون مبینہ طور پر دو سال پہلے لاپتہ ہو گئی تھیں اور انہیں بیچ سمندر پانی کی سطح پر زندہ لیکن بے ہوش حالت میں تیرتے دیکھ کر مچھیرے حیران رہ گئے۔برطانوی اخبار دی سن کے مطابق 46 برس کی خاتون کا

نام اینجلیکا گیتن ہے اور وہ مبینہ طور پر شوہر کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر 2018ء  میں اپنے بچوں کے بغیر اکیلی گھر چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں مچھیروں اور خاتون کو دیکھا جا سکتا ہے۔مچھیرے رولانڈو اور ان کے ساتھی کو ساحل سمندر سے چند میل آگے شکار کے لیے جاتے ہوئے پہلے پہل لگا کہ پانی کے اوپر کوئی عجیب و غریب چیز تیر رہی ہے، پھر لگا کہ لکڑی ہے لیکن قریب گئے تو انہوں نے خاتون کو نیم بے ہوشی کی حالت میں پانی پر ہچکولے لیتے دیکھا۔خاتون نے ادھ کھلی آنکھوں سے مچھیروں کو دیکھا اور مدد کے لیے ہاتھ بلند کیا۔ خاتون کی حالت بہت خراب تھی اور آٹھ گھنٹے تک پانی میں رہنے کی وجہ انہیں ہائپو تھرمیا نامی بیماری لاحق ہو چکی تھی۔ مچھیروں نے خاتون کو پانی سے نکالا تو ان کے پہلے الفاظ تھے کہ میں دوبارہ زندہ ہوئی ہوں، خدا مجھے مرنے نہیں دینا چاہتا۔فیس بک پر وائرل دیگر ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا کہ لوگ انہیں ہسپتال لے جانے سے پہلے پانی دے رہے اور پیدل چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اینجلیکا گیتن نے صحتیاب ہونے کے بعد آر این سی ریڈیو کو بتایا کہ انہوں نے کئی برس تک اپنے سابق شوہر کے ہاتھوں سہنے کے بعد 2018ئ  میں گھر سے بھاگ جانے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ 20 برس کی شادی شدہ زندگی  سہتے ہوئے گزری۔ اس کا آغاز پہلی

بیٹی کی پیدائش سے ہوا۔ وہ مجھے مارتا تھا۔ گالیاں دیتا تھا۔ دوسری بچی کے پیدائش تک بھی یہ سب چلتا رہا۔ میں اسی وقت بھاگ جانا چاہتی تھی لیکن میری بچیاں بہت چھوٹی تھیں۔پولیس کے پاس جانا بھی کسی کام نہ آیا کیونکہ وہ اسے ایک دن کے لیے حوالات میں بند کرتے اور

پھر چھوڑ دیتے۔ وہ پھر گھر آ کر مجھے مارتا پیٹتا۔ ستمبر 2018 میں ان کے خاوند نے ان کے چہرے پر گہری چوٹ لگائی اور مارنے کی کوشش کی اور چھ ماہ تک گلیوں میں بھٹکنے کے بعد ایک پناہ گاہ میں جگہ ملی۔ تاہم پولیس نے انہیں وہاں سے بھی نکال دیا۔انہوں نے کہا کہ میں زندہ

نہیں رہنا چاہتی تھی۔ میں سب کچھ ختم کر دینا چاہتی تھی۔ میری فیملی سمیت کوئی بھی میری مدد نہیں کر رہا تھا۔ میں نے سمندر میں چھلانگ لگا دی اور اس کے بعد کچھ پتا نہیں کہ کیا ہوا۔ جس شخص نے مجھے بچایا اس نے بتایا کہ میں بے ہوش تھی۔ان کی بیٹی نے میڈیا کو بتایا کہ اب وہ اور ان کی بہن اپنی ماں کا بہت خیال رکھیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…