ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

جدہ کی3 صدیاں پرانی اسلامی فن تعمیر کی شاہکار مساجدسیاحوں کی توجہ کا مرکز

datetime 18  اگست‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی )سعودی عرب کی جدہ گورنری کو مساجد اور اسلامی فن تعمیر کا شہر قرار دیا جاتا ہے۔ جدہ میں الشام، المظلوم، الیمن اور البحر ایسے مقامات ہیں جہاں پر اسلامی فن تعمیر کی شاہکار ایک سے بڑھ کر ایک مسجد موجود ہے جو سیاحوں کے لیے اپنے اندر خاص کشش رکھتی ہیں۔ ان مساجد کو دیکھنے اور ان کا وزٹ کرنے والے ایک لمحے میں صدیوں پیچھے کے دور میں چلے جاتے ہیں۔

عرب ٹی وی نے جدہ کی ان تاریخی مساجد اور ان کے فن تعمیر بالخصوص ان کے خوبصورت میناروں کی تعمیر پر روشنی ڈالی ۔المظلوم کالونی میں واقع مسجد الشفاعی 17 ویں صدی عیسوی میں تعمیر کی گئی۔ اس کی تعمیر میں لکڑ، مٹی، گارے اور پتھر کا استعمال کیا گیا۔ تاریخی جدہ شہر میں قائم مسجد عثمان بن عفان بھی فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ اسے آبنوس کی لکڑی سے تیار کیا گیا۔ اسے مسجد آبنوس بجی کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کا سنگ بنیاد انیسویں صدی ھجری میں رکھا گیا۔الشام کالونی میں واقع مسجد پاشا بھی جدہ کی مشہور مساجد میں سے ایک اور فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ اس مسجد کا خوبصورت مینار اس کی تعمیر پر ہونے والی محنت کی عکاسی کرتا ہے۔ مسجد پاشا سنہ 1978 میں تعمیر نو کے عمل سے گذری۔ اسی کالونی میں ایک مسجد المعمار موجود ہے جو 340 سال پرانی مسجد بتائی جاتی ہے۔جدہ کی پرانی مساجد میں مسجد عکاش 1200ھ میں تعمیر کی گئی۔ پانچ دروازوں والی مسجد نسبتا ایک بلند سطح پر واقع ہے اور اس کی تعمیر میں اخروٹ کی لکڑی استعمال کی گئی۔جامع مسجد الحنفی 1320ھ میں تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد جدہ کی الشام کالونی میں ہے۔ اس مسجد کو اسلامی فن تعمیر کے جدید و قدم کا امتزاج سمجھا جاتا ہے۔ شاہ سعود مسجد جدہ کے وسط میں واقع ہے۔ یہ مسجد 9700 مربع میٹر رقبے پر بنائی گئی ہے جس میں 5 ہزار افراد با جماعت نماز ادا کر سکتے ہیں۔۔ اسی کالونی میں الرحم مسجد بھی اسلامی فن تعمیر کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔جدہ کی دیگر خوبصورت مساجد میں مسجد تقوی، مسجد شاہ فہد بن عبدالعزیز، مسجد شہزادہ ماجد بن عبدالعزیز، جامع مسجد الفرقان، جامع مسجد اللامی، جامع شربتلی،جامع مسجد الغزاوی، جامع مسجد شہزادہ سلطان بن عبداعلزیز اور مسجد العنانی جدید طرز تعمیر کی شاہکار مساجد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…