ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی فوج کو کسی بھی علاقہ پر قبضہ کرنے کا اختیار حاصل  مقبوضہ کشمیر میں ایک اور متنازعہ قانون نافذ

datetime 29  جولائی  2020 |

نئی دہلی /سرینگر (این این آئی)بھارتی حکومت نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں ایک ایسا نیا متنازعہ قانون نافذ کیا ہے کہ فوج کسی بھی مقام کو اسٹریٹیجک قرار دے کر اس کو اپنے کنٹرول میں لے سکتی ہے۔مقبوصہ کشمیر کی انتظامیہ نے برسوں پرانے اس قانون کو ختم کر دیا ہے جس کے تحت جموں و کشمیر میں فوج یا پھر نیم فوجی دستوں کو کہیں بھی زمین حاصل کرنے کے لیے وزارت داخلہ سے

اجازت لینی پڑتی تھی۔ اس کے برعکس اب مقبوضہ کشمیر میں اس مرکزی قانون کا اطلاق ہوگا جس میں بری فوج، بحریہ، فضائیہ یا پھر دیگر نیم فوجی دستوں کے لیے حصول اراضی حکومت کا دائرہ اختیار ہے اور وہ اس سلسلے میں جہاں چاہے مناسب معاوضہ دیکر زمین کو اپنے کنٹرول میں کر سکتی ہے۔حکومت نے اس سلسلے میں اراضی حصول کے لیے سن 2013  کے اس مرکزی قانون کا حوالہ دیا ہے جس میں زمین کے بدلے باز آبادکاری کے ساتھ ساتھ معقول معاوضہ دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اس قانون  کے مطابق کسی بھی جگہ کو اسٹریٹیجک نقطہ نظر سے اہم قرار دینے کا دائرہ اختیار حکومت کا ہے۔  مقبوضہ کشمیر میں بھی اب اس نئے قانون کے تحت حکومت جس جگہ کو بھی دفاعی نکتہ نظر سے اہم سمجھتی ہو اسے بلا روک ٹوک حاصل کر سکتی ہے اور پھر اسے فضائیہ، بحریہ اور دیگر مسلح افواج کے لیے فراہم کر سکتی ہے۔اس سلسلے میں ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ترامیم سے مسلح افواج کی ضروریات کے لیے بعض علاقوں کو اسٹریٹیجک خطہ قرار دینے کی راہ ہموار ہوجائیگی اور ایسے علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیوں کے نظم و نسق کو خصوصی استثنی حاصل ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد طریقہ کار آسان بنانا ہے تاکہ دفاعی نکتہ نظر سے اہمیت والے انفرااسٹرکچر کو ترقی دی جا سکے۔مقبوضہ کشمیر میں بیشتر حلقے پہلے سے ہی یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ بڑی تعداد میں موجود بھارتی فوج خطے کی ہزارں ایکڑ زمین پر قابض ہے۔ حکومت کے ان تازہ اقدامات پر کشمیریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے کسی بھی علاقے میں اگر فوج کو کچھ تعمیر کرنا ہوتا تھا تو اسے مقامی انتظامیہ سے اجازت لینی پڑتی تھی لیکن اب کسی بھی جگہ کو اگر اسٹریٹیجک قراردے دیا گیا تو پھر اس پر بھارتی سکیورٹی فورسز کے علاوہ کسی کا اختیار نہیں رہے گا اور وہ جہاں چاہیں اپنی مرضی سے کچھ بھی تعمیر کر سکتے ہیں۔کشمیر میں انسانی حقوق کے معروف کارکن پرویز امروز کہتے ہیں کہ کشمیر میں حالات پہلے سے بدتر ہیں اور بھارتی حکومت کا خیال ہے کہ وہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدل کر ہی حالات کنٹرول کر سکتی ہے۔ اپنے کنٹرول کے میکنزم کے تحت ہی وہ ریاست کے قوانین میں بہت تیزی سے تبدیلیاں کر ر ہی ہے اور اداروں کو تباہ کرنے میں لگی ہے۔آبادی اور رقبے کے اعتبار سے اس وقت عالمی سطح پر کشمیر میں سب سے زیادہ فوج تعینات ہے۔کشمیر کی بیشتر ہند نواز سیاسی جماعتیں بھی اس کی مخالف ہیں اور اس سلسلے میں کئی رہنماؤں کی جانب سے بیان بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم حکومت نے مخالفت کے باوجود اسے منظوری دے دی ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت نے اسی کے مد نظر یہ قانون نافذ کیا ہے تاکہ فوج کشمیر میں جہاں بھی چاہے فوجی چھاؤنیاں تعمیر کر سکے اور خطے میں زیادہ سے زیادہ  فوج کو تعینات کیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…