ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

12لاکھ تارکین وطن مزدوروں کی سعودی عرب سے واپسی کون کون سے شعبے زیادہ متاثر ہونگے؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 17  جون‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب سے 2020 کے دوران میں قریبا 12 لاکھ تارکین وطن مزدور واپس چلے جائیں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جدوہ انویسٹمنٹ کمپنی کی ایک رپورٹ میں کہاگیاکہ میزبانی ، کھانے پینے کی خدمات ، انتظامیہ اور کھیلوں کی سرگرمیوں ، بہ شمول کرایہ اور لیز ، ٹریول ایجنسیوں ، سکیورٹی اور عمارتوں کی

خدمات کے شعبے زیادہ متاثر ہوں گے اور ان میں کام کرنے والے تارکینِ وطن مزدور آبائی ممالک کو لوٹ جائیں گے۔تاہم اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیرملکیوں کے اتنی زیادہ تعداد میں انخلا کے باوجود سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی اور وہ 12 فی صد پر برقرار رہے گی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت کے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ کردہ لاک ڈان اقدامات میں نرمی کے باوجود مستقبل قریب میں بہت سے شعبوں کی مکمل بحالی کی امید نہیں ہے۔ ان میں بالخصوص ٹریول ، ہوٹل ، ریستوران ، سیاحت اور ماحول کے شعبے شامل ہیں۔جدوہ کے مطابق سعودی عرب کی بے روزگاری کے خاتمے کی اسکیم سعودی شہریوں کی نجی شعبے میں ملازمتیں برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ مجموعی طور پر سال کی دوسری ششماہی میں کاروباری ماحول میں بہتری آئے گی۔بالخصوص چوتھی سہ ماہی میں نمایاں فرق پڑے گا اور اس کے شہریوں کے روزگار پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیرملکی شہریوں کے انخلا سے سعودی شہری فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور وہ ان ملازمتوں کو حاصل کرسکتے ہیں، جو ماضی میں صرف غیرملکیوں کو دی جاتی رہی ہیں۔اس طرح کرونا وائرس کے بعد معیشت کی بحالی کے عمل میں انھیں زیادہ مواقع حاصل ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…