اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں پاکستانیوں کی میتیں کہاں پڑی ہیں ، جلد از جلد نعشوں کوکہاں منتقل کیا جائے گا ؟میتوں کو پاکستان کیسے بھیجا جائے گا؟پاکستان سفیر نے اعلان کر دیا

datetime 1  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سوشل میڈیا پر سعودی عرب میں پاکستانیوں کی میتوں کے حوالے سے افواہوں پر پاکستانی سفیر راجہ علی اعجاز نے وضاحت کرتے ہوئے کہاہے کہ سوشل میڈیا پر تاثر دیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانیوں کی میتیں گھروں میں پڑی ہیںسوشل میڈیا پر جو تاثر دیا جا رہا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ ایک بیان میں پاکستانی سفیر راجہ علی اعجاز نے کہاکہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے

تمام معاملات سفارتخانے کے علم میں ہیں۔ سفیر راجہ علی اعجاز نے کہاکہ جہاں پر بھی کسی پاکستانی کی نعش ہے وہاں پاکستانی سفارتخانے کا عملہ بروقت پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے،ہماری کوشش ہوتی ہے جلد از جلد نعشوں کو سردخانے منتقل کیا جائے۔سفیر راجہ علی اعجاز نے کہاکہ سعودی عرب میں ہسپتالوں کے اندر سردخانے بھرے پڑے ہیں،جیسے ہی کسی سردخانے میں گنجائش بنتی ہے وہاں میت کو پہنچایا جاتا ہے۔سفیر راجہ اعجاز علی نے کہاکہ اس تمام مرحلے میں تھوڑا وقت لگ جاتا ہے جس کے باعث کسی فرد پر الزام عائد نہیں کیا جا سکتا،2 جون اور 6 جون کو دو فلائٹس کے ذریعے 20،20 میتوں کو پاکستان منتقل کیا جائے گا۔ پاکستانی سفیر نے کہاکہ ہماری کوشش ہے مزید فلائٹس کے ذریعے بھی میتوں کو سعودی عرب سے پاکستان منتقل کیا جائے،سعودی عرب میں مقیم پاکستانی پی آئی اے سے انکے مقرر کردہ ریٹس پر ٹکٹ خرید رہے ہیں،اگر کسی پاکستانی سے ٹکٹ کی مد میں زیادہ پیسے وصول کیے جا رہے ہیں تو سفارتخانے یا مجھ سے رابط کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…