جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

چینی ارب پتی شخص نے نیویارک کو کرونا وائرس کیخلاف جنگ کیلئے تحفہ بھیج دیا

datetime 5  اپریل‬‮  2020 |

نیویارک /بیجنگ (این این آئی) چین کی آن لائن سپر مارکیٹ کمپنی علی بابا کے شریک بانی اور امریکا کی باسکٹ بال ٹیم نیٹس کے مالک و ارب پتی چینی شخص جوزف تسائی اور ان کی اہلیہ کلارا وو تسائی نے کورونا وائرس سے دنیا کے سب سے متاثرہ شہر نیویارک کو طبی آلات عطیہ کردئیے۔تفصیلات کے مطابق آن لائن سپر مارکیٹ کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما نے بھی پاکستان سمیت دیگر ممالک کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے طبی آلات کی امداد دی تھی۔

نہ صرف علی بابا بلکہ چین کی صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت نے بھی متعدد ممالک کی مدد کرتے ہوئے کئی ممالک کو طبی آلات بھجوائے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق علی بابا کے شریک بانی اور امریکی باسکٹ بال ٹیم کے سربراہ جوزف تسائی اور ان کی اہلیہ کلارا وو تسائی کی جانب سے بھجوائے گئے وینٹی لیٹرز، فیس ماسک اور حفاظتی چشموں سمیت دیگر سامان نیویارک شہر کی انتظامیہ نے وصول کرلیا۔رپورٹ کے مطابق ارب پتی چینی شخص کی جانب سے مذکورہ سامان 2 الگ الگ جہازوں کے ذریعے بھجوایا گیا تھا اور امداد طبی سامان کی پہلی کھیپ نیویارک شہر کی حکومت نے 2 اپریل کو جبکہ دوسری 4 اپریل کو وصول کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ چینی ارب پتی شخص کی جانب سے نیویارک شہر کیلیے 2 ہزار وینٹی لیٹرز، 26 لاکھ فیس ماسک اور ایک لاکھ 70 ہزار حفاظتی چشمے بھجوائے گئے جو کہ انتظامیہ نے وصول کرلیے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ چینی ارب پتی شخص کی جانب سے بھجوائے گئے میڈیکل فیس ماسک اور میڈیکل حفاظتی چشموں کو نیویارک شہر کے 11 مختل علاقوں کے طبی رضاکاروں کو میں تقسیم کیا گیا جب کہ چینی ارب پتی شخص نے طبی عملے کے لیے حفاظتی لباس بھی بھجوانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے بھی چینی ارب پتی شخص اور ان کی اہلیہ کی جانب سے بھجوائی گئی طبی آلات کی امداد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…