جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

امن معاہدہ، افغان حکومت جن 1500قیدیوں کو رہا کر رہی ہے ہم نے ان کی لسٹ نہیں دی،یہ کون لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں اب رہائی سے قبل ہم کیا کریں گے؟ طالبان نے اپنا فیصلہ سنا دیا

datetime 14  مارچ‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کے اعلانات کیے جا رہے ہیں لیکن اسی دوران طالبان نے کہا ہے کہ وہ پہلے افغان حکومت کی جانب سے رہا کیے جانے والے قیدیوں کی تصدیق کریں گے کہ کیا وہی قیدی رہا کیے جا رہے ہیں جن کی فہرست انھوں نے کابل انتظامیہ کو فراہم کی تھی۔امریکہ نے معاہدے کے مطابق 10 مارچ سے اپنے فوجیوں کا انخلا شروع کر دیا ہے

جبکہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی گذشتہ دنوں 1500 قیدیوں کی رہائی کی دستاویز پر دستخط کر دیے تھے۔ان رہائی پانے والے 1500 طالبان قیدیوں سے تحریری طور پر یہ ضمانت لی جائے گی کہ آئندہ وہ کسی قسم کی جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔قطر میں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے برطانوی ٹی وی کے بتایاکہ انھیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کابل انتظامیہ جن 1500 قیدیوں کو رہا کر رہی ہے وہ جرائم پیشہ افراد ہیں اور جو فہرست انھوں نے کابل انتظامیہ کو دی تھی، یہ وہ قیدی نہیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسی لیے انھوں نے ایک گرینڈ وفد تشکیل دیا ہے جو 34 افراد پر مشتمل ہے۔سہیل شاہین کے مطابق اس وفد میں افغانستان کے تمام صوبوں سے ایک ایک نمائندہ لیا گیا ہے اور یہ وفد کابل انتظامیہ کی جانب سے رہا کیے جانے والے تمام قیدیوں کی تصدیق کرے گا اور اس کے بعد مزید پیشرفت ہو گی۔واضح رہے کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد 5000 افراد کی ایک فہرست فراہم کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ ان افراد کو رہا کیا جائے۔ دوسری جانب افغان حکومت کی جانب سے بھی 1000 افراد کی ایک فہرست تیار کی گئی تھی۔سہیل شاہین نے بتایا کہ افغان انتظامیہ کی جانب سے گذشتہ دنوں انھیں ایک فہرست موصول ہوئی ہے اور یہ فہرست ان افراد کی ہے جن کی رہائی کابل انتظامیہ چاہتی ہے اب وہ اس فہرست کا جائزہ لے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…