جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

طالبان نے امن معاہدہ توڑنے بارے حتمی فیصلہ سنا دیا، دورہ پاکستان بارے بھی انتہائی اہم اعلان کر دیا

datetime 8  مارچ‬‮  2020 |

دوحہ(آن لائن) ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے امن معاہدہ توڑنے سے متعلق امریکی میڈیا کی خبروں کی تردید کردی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں افغان ترجما ن کا کہنا ہے کہ ابھی تک معاہدے پر عملدرآمد تسلی بخش طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔

امریکی حکام کے معاہدہ توڑنے کے دعوے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔واضح رہے کہ 29 فروری کو دوحہ میں ہونے والے طالبان امریکہ مذاکرات میں 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ بھی طے پایا تھا تاہم افغان صدر کی جانب سے طالبان قیدیوں کو رہا نہ کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا تھا جس کے بعد دونوں اطراف کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔طالبان کا کہنا تھا کہ وہ افغان فوج کے خلاف لڑیں گے لیکن غیر ملکی افواج کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ طالبان نے واضح کیا تھا کہ اگر ہمارے قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو ہم مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔بعد ازاں طالبان نے افغان صوبے قندوز میں حملہ کر کے 16 افغان فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 10 کو یرغمال بنا لیا تھا۔اس حملے کے جواب میں امریکی فضائیہ نے افغان صوبے ہلمند میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…