جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام! طیب اردوان کے صبر کا پیمانہ لبریز ، دھماکے دار اعلان کر دیا

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

انقرہ(آن لائن)ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھارت میں مسلمانوں کے ‘قتل عام’ پر کڑ ی تنقیدکر تے ہو ئے کہا کہ امن کا را گ الا پنے والے بھا رتی لیڈر نہتے مسلما نو ں پر ظلم ڈھا کر دنیا کو زیا دہ دیر گمرا ہ نہیں کر سکتے ۔ انقرہ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت اس وقت ایسا ملک بن گیا ہے

جہاں قتل عام پھیل رہا ہے، کس کا قتل عام؟مسلمانوں کا قتل عام، کون کر رہا ہے؟، ہندو’۔انہوں نے مسلمانوں پر حملہ آور گروہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے نجی ٹیوشن میں پڑھنے والے بچوں پر ‘لوہے کی راڈ سے حملے کیے جیسے انہیں قتل کردیں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ لوگ عالمی امن کو کیسے ممکن بنائیں گے، یہ ناممکن ہے، ان کی بہت بڑی آبادی ہے جس کی وجہ سے جب یہ تقریریں کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم مضبوط ہیں، یہ مضبوطی نہیں’۔واضح رہے کہ بھارتی دارالحکومت میں کشیدگی عروج پر ہے جہاں ہزاروں پولیس اور پیرا ملٹری اہلکار سڑکوں پر پیٹرولنگ کر رہے ہیں اور کئی روز سے جاری تشدد کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں 38 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…