جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ترکی آرمی کا بڑاقیمتی نقصان !ادلب حملے میں جاں بحق ترک فوجیوں کی تعداد میں افسوسناک حد تک اضافہ

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)شامی حملے نے ترک آرمی کا بڑا نقصان کر دیا ، جاں بحق فوجیوںکی تعداد میں ہوشربا اضافہ ۔ تفصیلات کے مطابق ادلب میں شامی افواج کی جانب سے فضائی حملے میں جاں بحق ترک فوجیوں کی تعداد 34 ہو گئی۔آخری اطلاعات کے مطابق جاں بحق ترک فوجیوں کی تعداد 29 بتائی گئی تھی جبکہ تازہ اطلاعات کے مطابق بتایا جا رہا ہے کہ شامی فوج کے حملے میں 34 ترک فوجی جاں بحق ہوئے ہیں۔

قبل ازیں لیبیا کے معیتیقہ ہوائی اڈے پر فائرنگ کے نتیجے میں قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے آئے کم سے کم 29 ترک فوجی ہلاک اور متعدد زخمی اطلاعات موصول ہوئیں تھیں۔جس کے بعد صدر رجب طیب اردوان کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس طلب کر لیا تھا جس میں وزراء اور فوجی حکام نے شرکت کی تھی ۔شام کے علاقے ادلب میں ترک فوج پر ہونے والے ایک خوفناک فضائی حملے کے نتیجے 29 ترک فوجی جاں ہوئے تھے ہیں جبکہ 40سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔لیبیا کے معیتیقہ ہوائی اڈے پر فائرنگ کے نتیجے میں قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے آئے کم سے کم 29 ترک فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔لیبیا کی قومی فوج کے ایک سینئر عہدیدار بریگیڈیئر خالد المحجوب نے عرب ٹی وی کو بتایا کہ لیبی فوج کی گولہ باری سے معیتیقہ ہوائی اڈے پر کم سے کم 29 ترک فوجی مارے گئے۔ادھر لیبی فوج کے شعبہ اطلاعات کے سربراہ نے بتایا کہ طرابلس میں قائم معیتقیہ فضائی اڈے پر بھاری توپ خانے سے حملہ کیاگیا۔ اس حملے سے کچھ دیر قبل لیبی فوج نے جنوبی دارالحکومت میں ترکی کا ایک مسلح ڈورن طیارہ مار گرایا تھا۔لیبی فوج کے ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ معیتیقہ فضائی اڈے پر گولہ باری کے دوران ترکی کے فوجی بھی موجود تھے۔ترک صدر نے گذشتہ ہفتے لیبیا میں قومی فوج کے حملے میں ترک فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔لیبیا میں ترکی کو تازہ جانی نقصان ایک ایسے وقت میں پہنچا ہے جہاں دوسری طرف شام میں بھی ترکی کو 34 فوجیوں کی لاشیں اٹھانا پڑی ہیں۔معروف ترک اخبار صبا کے مطابق اس وقت ترک صدر کی زیر صدارت انقرہ میں قومی سلامتی کا ہنگامی اجلاس جاری ہے جس میں اعلیٰ عہدیدار شریک ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…