جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پسند کی لائسنس پلیٹ نہ دینے پر ٹرانسپورٹ ادارے کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر جرمانہ

datetime 23  فروری‬‮  2020 |

نیو یارک (این این آئی) امریکی ریاست کنٹکی کے ٹرانسپورٹ کے ادارے کو عدالت نے ایک شخص کی گاڑی کے لیے اس کی پسند کی لائسنس پلیٹ جاری نہ کرنے پر ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے زیادہ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی اکثر ریاستوں میں آپ گاڑی کی نمبر پلیٹ پر اپنی پسند کا نام لکھوا سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے لفظوں کی تعداد مقرر ہے۔

اپنی پسند کے نام کے لیے آپ کو مقررہ فیس کے علاوہ سالانہ اضافی رقم بھی دینا ہوتی ہے۔کنٹکی کے ایک شخص بن ہیرٹ نے اپنی گاڑی کی لائسنس پلیٹ کے لیے GOD IM’ یعنی ’میں خدا ہوں‘ الاٹ کرنے کی درخواست کی تھی۔جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ٹرانسپورٹیشن کا محکمہ 150715 ڈالر کی رقم وکیلوں کی فیسوں اور تقریباً 500 ڈالر عدالتی اخراجات کے طور پر ادا کرے۔امریکی عدالتوں میں بھی بعض مقدمے برسہا برس چلتے ہیں۔ گاڑی کی لائسنس پلیٹ کے اس مقدمے کا تعلق چار سال پہلے 2016 سے ہے۔بن ہیرٹ نے اس سال ٹرانسپورٹیشن ایجنسی کو اپنی گاڑی کے لیے اپنی پسند کی عبارت کی لائسنس پلیٹ تیار کرنے کی درخواست کی تھی، مگر انہوں نےIMGODنام کی لائسنس پلیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ محکمے نے اپنے انکار کے جواز میں کہا کہ ادارے کی گائیڈلائنز امتیازی رویوں پر مبنی لائسنس پلیٹ جاری کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔وفاقی جج نے نومبر میں اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس طرح کی لائسنس پلیٹ آزادی اظہار کے دائرے میں آتی ہے جسے امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ محکمے نے پلیٹ جاری کرنے سے انکار کر کے بن ہیرٹ کے اس بنیادی حق کی خلاف ورزی کی ہے جو آئین اسے فراہم کرتا ہے۔ریاست کی طرف سے پیش ہونے والے وکلا نے عدالت درخواست دائر کی کہ درخواست گزار کے وکلا کی فیس کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ اس پر نظر ثانی کی جائے۔ عدالت نے بن ہیرٹ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ریاست کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے زیادہ فیس ادا کرنے کا حکم دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقدمے میں ہیرٹ کی طرف سے وکلا کی ایک بڑی ٹیم تھی، جن میں ریاست کنٹکی کی شہری آزادیوں کی یونین اور مذہبی بنیادوں سے آزادی کا گروپ بھی شامل ہے، جنہوں نے اس کیس کی تیاری اور درخواست دائر کرنے میں بن ہیرٹ کی مدد کی تھی-‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…